Urdu book · اسفارِ ہند

بمبئی کا سفر

Urdu book, p. 210

By Maulana Wahiduddin Khan

بلکہ ان کو اب یہ کرنا چاہئے کہ خود ایودھیا جا کر مسجد کو وہیں بنائیں۔ ان کی موجودہ روش گویا قول پر عمل کا کریڈٹ لینا ہے جس کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں۔ بمبئی ایئرپورٹ پر دہلی کے سابق پولیس کمشنر مسٹر وید برو اسے ملاقات ہوئی۔ وہ بھی اسی جہاز سے کنونشن میں شرکت کے لئے آئے تھے، مگر ملاقات ایئر پورٹ پر ہو سکی۔ ایئر پورٹ سے ہم دونوں ایک ہی گاڑی میں روانہ ہوئے۔ میری عادت ہے کہ میں ہر ایک سے اس کے اپنے دائرہ کی بات کرتا ہوں اور نہ زیادہ تر سوالات کی صورت میں اس سے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ چنانچہ مسٹر وید برو اسے میں نے پولیس کے محکمہ کی بابت سوالات کئے۔ ایک مسلم لیڈر صاحب نے ایک بار مجھے بتایا کہ ایک سفر کے دوران ان کی ملاقات ایک پولیس افسر سے ہوئی۔ انھوں نے پولیس افسر سے پوچھا: جناب یہ بتائیے کہ کمیونل رائٹ میں پولیس صرف مسلمانوں کو کیوں مارتی ہے۔ مگر میرے نزدیک یہ سوال نہیں ہے، بلکہ چھیڑ خانی ہے۔ میں کسی آدمی سے وہ سوالات کرتا ہوں جس سے میں اس کی فیلڈ کی کچھ نئی معلومات لے سکوں۔ میرا مقصد اپنی معلومات بڑھانا ہوتا ہے نہ کہ اس کو مطعون کرنا۔ پچھلے سفر میں میری ملاقات بمبئی کے ڈپٹی کمشنر آرٹی راٹھور سے ہوئی۔ ان سے بھی میں نے ان کے دائرہ عمل کی باتیں کیں۔ انھوں نے بتایا کہ پولیس کی تعریف ایک شخص نے ان الفاظ میں کی ہے ـــــــــ پولیس کے لوگ سماجی ڈاکٹر ہیں۔ ان کا کام سماجی برائیوں کو ختم کرنا ہے: Police are social doctors to eradicate social evils. اس بار بمبئی میں میرا قیام جسٹس ایم ایم قاضی کی رہائش گاہ ( مالا بار ہلز) پر تھا، وہ نہایت با ذوق اور دینی مزاج کے آدمی ہیں۔ ان کے مکان پر جانے کے لئے جب میں ان کی گاڑی پر بیٹھنے لگا تو میں نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ میں ایک پرزہ ہے۔ یہ ان کے گھر سے آیا تھا اور اس پر لکھا ہوا تھا: آپ آتے وقت گوشت یا مرغ لیتے آئیں تو ٹھیک رہے گا۔ پوچھنے پر جسٹس قاضی نے بتایا کہ انھوں نے ٹیلی فون کے ذریعہ اپنے گھر پر بتا دیا تھا کہ میں آرہا ہوں۔ چنانچہ ان کی اہلیہ نے مذکورہ رقعہ بھیجوایا ہے۔ اس کے بعد فوراً میں گاڑی سے اترا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page