بمبئی کا سفر
Urdu book, p. 211
By Maulana Wahiduddin Khan
میں نے کہا کہ میں صرف اس شڑ طا پر آپ کے یہاں چلوں گا کہ جو کچھ آپ کے یہاں موجود ہے بس اسی کو آپ مجھے کھلائیں۔ کسی بھی نئے آئٹم کا اضافہ نہ کریں۔ انھوں نے کہا کہ ہاں ایسا ہی ہو گا ۔ اس کے بعد میں دو بارہ ان کی گاڑی پر بیٹھا۔ جسٹس قاضی کا مطالعہ اور تجربہ دونوں کافی وسیع ہے۔ وہ دلچسپ انداز میں قیمتی باتیں کرتے رہتے ہیں۔ انھوں نے کسی کا ایک قول سنایا کہ ہر آدمی صاحب علم بننا چاہتا ہے ۔ مگر کوئی آدمی اس کی قیمت ادا نہیں کرتا : Everybody wants to be learned but nobody wants to pay the price. ٣ اپریل کو انڈین مرچنٹس چیمبر کے وال چند ہرا چند ہال میں کنونشن تھا۔ صبح نو بجے اس کی کارروائی شروع ہوئی۔ پہلے کچھ تعارفی تقریریں ہوئیں ۔ ان میں بتایا گیا کہ اس وقت ملک کی حالت بہت تشویش ناک ہے ۔ اس کے حل کے لئے اگر کچھ نہ کیا گیا تو ملک کو نا قابل تلافی نقصان پہنچے گا۔ اس کے بعد تین رزولیوشن پیش کئے گئے اور غور و بحث کے بعد کسی قدر ترمیم کے ساتھ منظور کئے گئے۔ پہلا رزولیوشن مسٹر بی کے نہرو نے پیش کیا ۔ اس میں موجودہ ہندوستانی دستور میں کچھ تبدیلیاں تجویز کی گئی تھیں ۔ ان کے بعد جنرل ایس کے سنہا نے اس کی حمایت میں تقریر کی۔ اس کو اتفاق رائے سے منظور کر لیا گیا۔ دوسرا رزولیوشن مسٹر کے ایف رستم جی نے پیش کیا۔ یہ ملک کی موجودہ انتظامی حالت کے بارہ میں تھا اور اس میں کچھ انتخابی تبدیلیاں تجویز کی گئی تھیں ۔ یہ رزولیوشن بھی اتفاق رائے سے منظور کر لیا گیا۔ تیسرا رزولیوشن مسٹر نانی پالکی والا نے پیش کیا۔ اس میں اجودھیا کے بارہ میں میرے فارمولا کی تائید کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ اس کو ہندو اور مسلمان دونوں فریق مان لیں ۔ اور اس کی بنیاد پر ملک میں امن و امان کا دور لائیں۔ مجھے اس کی حمایت میں تقریر کرنا تھا۔ میں نے اپنی مفصل تقریر میں ماضی اور حال اور مستقبل ، تینوں اعتبار سے اس کی اہمیت واضح کی ۔ یہ رزولیوشن بھی اتفاق رائے کے ساتھ منظور کر لیا گیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader