Urdu book · اسفارِ ہند

بمبئی کا سفر

Urdu book, p. 212

By Maulana Wahiduddin Khan

جنرل سنہانے اپنی تقریر میں کہا کہ ایودھیا کا مسئلہ ایک معمولی مسئلہ تھا۔ وہ اتنا زیادہ اس لئے بڑھ گیا کہ ہندوؤں اور مسلمانوں، دونوں نے اس معاملہ میں غیر حقیقی طریقہ اختیار کیا۔ ہندوؤں نے اس کو بے عزتی کا نشان (symbol of humiliation) سمجھ لیا۔ دوسری طرف مسلمانوں نے اس کو اپنے لئے عزت و وقار کی علامت (symbol of honour) بنالیا۔ اس دو طرفہ ضد کی وجہ سے یہ مسئلہ اتنی اہمیت اختیار کر گیا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ایودھیا کا ایک مقامی مسئلہ پورے ملک کی بقاء و ترقی کا سوال نہ بن جاتا۔ سعید نقوی صاحب نے کہا کہ یہ دراصل سیاست تھی جس نے یہ تمام مسئلے پیدا کئے۔ ورنہ اس ملک میں رام اور رحیم کا کوئی جھگڑا ہی نہ تھا۔ انھوں نے اقبال کا یہ شعر سنایا جس میں رام کو ہند کا امام کہا گیا ہے : ہے رام کے وجود پہ ہندوستان کو ناز اہل نظر سمجھتے ہیں اس کو امام ہند مسٹر سعید نقوی نے اپنی تقریر میں بتایا کہ ۲۰۱۹ء میں اٹل بہاری واجپئی وزیر خارجہ کی حیثیت سے پاکستان گئے۔ ان کے ساتھ جرنلسٹوں کی جو ٹیم تھی اس میں مسٹر نقوی بھی شامل تھے۔ کراچی میں مسٹر نقوی کے چچا رہتے ہیں۔ وہ اپنے چچا سے ملنے کے لئے ان کے گھر گئے۔ ان کے ساتھ کچھ ہندو جرنلسٹ بھی تھے۔ جب وہ لوگ چچا کے گھر میں تھے تو چچا کے ایک نوجوان لڑکے نے ان کو دیکھ کر کہا: بھیا، یہ ہندو وہیں کیا۔ وہ تو دیکھنے میں بالکل تمہاری طرح لگتے ہیں۔ اس نے ایسا کیوں کہا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں پیدا ہونے والا مسلم بچہ گھر سے لے کر باہر تک ہندو کے بارہ میں بری باتیں سنتا ہے۔ وہاں کا پرنٹ میڈیا اور الکٹرانک میڈیا ہندو کا تعارف اس انداز سے کراتا ہے جیسے کہ ہندو کوئی بہت خراب قسم کی مخلوق ہو۔ وہ ہندو کے بارہ میں صرف ایک ہی چیز جانتا ہے۔ وہ یہ کہ ہندو ایک مسلم دشمن قوم ہے۔ حالاں کہ اصل حقیقت یہ ہے کہ ہر شخص انسان ہے۔ ہر ایک کے اندر وہی فطرت ہے جو کسی دوسرے انسان کے اندر ہے۔ دنیا کی قوموں کو دشمن اور دوست کے خانے میں تقسیم کرنا غیر معقول بھی ہے اور غیر اسلامی بھی۔ یہی بات برعکس صورت میں انڈیا میں اکثر ہندو گھرانوں میں پائی جاتی ہے۔ وہاں مسلمان کا چرچا اس ڈھنگ سے کیا جاتا ہے جیسے کہ مسلمان کوئی ہندو دشمن مخلوق ہو۔ حالاں کہ اس کا حقیقت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page