بمبئی کا سفر
Urdu book, p. 213
By Maulana Wahiduddin Khan
سے کوئی تعلق نہیں۔ مسٹر سی سبرائینم نے اپنی تقریر میں کہا کہ دنیا میں کوئی سماج ایسا نہیں ہے جو واحد مذہبی (uni-religious society) ہو ۔ دنیا کا ہر سماج کئی مذہبی سماج (multi-religious society) ہے۔ ایک ایسی دنیا میں ہم انڈیا کو ایک مذہبی جزیرہ نہیں بنا سکتے۔ دوسرے ملکوں کی طرح یہاں بھی ہم کو ہر مذہب کے لئے آزادانہ مواقع دینے ہوں گے۔ ہر آدمی کو حق ہے کہ وہ اپنے مذہب کی تبلیغ کرے ، مگر اسے یہ حق نہیں کہ وہ دوسروں کے مذہب کی مذمت کرے : Everybody is entitled to preach his religion, but no abuse. چیئرمین نے اپنی آخری تقریر میں کہا کہ آج انڈیا میں حالات بہت زیادہ خراب ہیں لیکن ابھی بھی امید کی ایک کرن باقی ہے : Things are very very dark in India today, but there is also a ray of hope. بمبئی کے ٹائمس آف انڈیا (۴ اپریل) میں صفحہ ۳ پر بمبئی کے کچھ مسلمانوں نے ایک اپیل شائع کرائی تھی۔ اس میں اپنے مسلمان بھائیوں سے کہا گیا تھا کہ وہ یہ طریقہ چھوڑ دیں کہ جمعہ کی نماز کی صفیں سڑکوں پر بنائیں ۔ چونکہ مسافروں اور غیر مسلم حضرات کو اس پر اعتراض ہے ۔ اس لئے مسلمانوں کو یہ طریقہ چھوڑ دینا چاہئے ۔ میں نے اس کی تائید کرتے ہوئے کچھ لوگوں سے کہا کہ حدیث میں ایمان کا ایک تقاضایہ بتایا گیا ہے کہ راستہ سے تکلیف والی چیز کو ہٹانا ( اماتۃ الاذی عن الطریق) ایسی حالت میں کیسا عجیب ہو گا کہ مسلمان راستہ میں تکلیف ڈالنا ( اقامة الاذی علی الطریق) کا عمل کرنے لگیں۔ میں نے کہا کہ کوئی بھی عذر مسلمانوں کو یہ حق نہیں دیتا کہ وہ شارع عام پر نماز پڑھنے لگیں ۔ عذر کو ہمیشہ اپنے داخلی دائرہ میں حل کرنا چاہئے نہ کہ اسے خارجی مسئلہ بنا دیا جائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader