Urdu book · اسفارِ ہند

بمبئی کا سفر

Urdu book, p. 214

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک تعلیم یافتہ ہندو نے بات چیت کے دوران کہا کہ انڈیا میں صرف دو قسم کے لوگ بستے ہیں۔ ایک وہ جو کہ ہندو ہیں ، دوسرے وہ جو کہ ہندو تھے : There are two kind of people in India—one who are Hindus, and the other who were Hindus. اس بات کو اگر کلچرل معنی میں لے کر کہا جائے کہ سارے لوگ ہند و ہیں تو وہ درست نہ ہوگا۔ البتہ اگر اس کو اخوت کے معنی میں لے کر کہا جائے کہ سارے لوگ بھائی بھائی ہیں تو وہ عین درست ہے۔ ایک صاحب نے بتایا کہ ایک شخص نے لکھا ہے اور بالکل درست لکھا ہے کہ دانش مند آدمی اپنے گردو پیش کے حالات کے ساتھ موافقت کرتا ہے ۔ اور غیر دانش مند آدمی حالات کو خود اپنے موافق بنانے کی کوشش کرتا ہے : The reasonable man adjusts himself to the circumstance around him; the unreasonable man tries to adjust the circumstances to himself. ایک تعلیم یافتہ ہندو سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ بابری مسجد کے بعد اب ہندوؤں کے لئے کاشی اور متھرا کا چیپر کھولنے کا کوئی جسٹی فیکیشن نہیں ہے۔ کیوں کہ اجودھیا میں تو ان کے کہنے کے مطابق ، رام مندر نہیں تھا جس کو انہیں بنانا تھا۔ جب کہ کاشی اور متھرا کا کیس یہ نہیں ہے ۔ کاشی میں گیان وایپی مسجد سے الگ شیو کا استھان بنا ہوا ہے اور وہ ہندوؤں کے قبضہ میں ہے۔ اسی طرح متھرا میں آج بھی کرشن جنم استھان مسجد سے الگ ہے اور وہ پوری طرح ہندوؤں کے قبضہ میں ہے۔ ایسی حالت میں کاشی اور متھرا کا چیپر کھولنے کا انھیں کوئی حق نہیں پہنچتا۔ ایک اور ہندو نے کہا کہ مسلمان کانسٹ ٹیوشن کا نام بہت لیتے ہیں۔ مگر وہ کانسٹ ٹیوشن کو صرف اپنے رائٹ کے لئے کوٹ کرتے ہیں، اپنی ڈیوٹی کے لئے وہ کانسٹ ٹیوشن کو کوٹ نہیں کرتے۔ انھوں نے کہا کہ کانسٹ ٹیوشن کے مطابق، مسلمانوں کو اس ملک میں مائناریٹی کا حق حاصل ہے۔ پھر وہ اس طرح کیوں نہیں رہتے جس طرح ساری دنیا میں مائناریٹیز رہتی ہیں۔ انھیں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page