بمبئی کا سفر
Urdu book, p. 215
By Maulana Wahiduddin Khan
بھارت میں اسی طرح رہنا ہو گا جس طرح پاکستان میں ہند و مائنار یٹی اور بنگلہ دیش میں ہندو مائناریٹی رہتی ہے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو اس کی قیمت انھیں خود ہی ادا کرنی پڑے گی ۔ ۴ اپریل کی صبح کو مسٹر مدھو مہتا وغیرہ کے ساتھ بیٹی کے ایک آشرم پر گیا۔ یہاں مشہور سماجی ریفار مر پانڈورنگ شاستری سے ملاقات ہوئی ۔ یہ بہت بڑا آشرم تھا۔ اس کے باوجود ہر طرف آدمی ہی آدمی دکھائی دیتے تھے۔ پانڈورنگ شاستری ریفارمر بھی ہیں اور دھرمر گرو بھی۔ اس لئے روزانہ ہزاروں لوگ ان کے درشن کے لئے آتے ہیں۔ ہم لوگ جب آشرم کے اندرونی حصے میں داخل ہوئے تو پہلا تجربہ جو پیش آیا وہ یہ تھا کہ گیٹ پر دو آدمی لال رنگ کے تھیلے لئے ہوئے کھڑے تھے۔ ہم میں سے ہر شخص کو ایک تھیلا دیا گیا۔ ہمیں یہ کرنا تھا کہ اس کے اندر اپنا جوتا رکھ کر دوبارہ انھیں لوٹا دیں۔ اس کے بعد انھوں نے ہر ایک کو ایک ٹوکن دیا جس پر الگ الگ نمبر لکھا ہوا تھا۔ ہمارے جوتے اس طرح تھیلوں میں بند کر کے لکڑی کی الماری کے خانہ میں رکھ دئے گئے۔ جب ہم واپس آئے تو نمبر دکھا کر دوبارہ ہم کو ہمارا جوتا واپس کر دیا گیا۔ یہ ساری خدمت بلا معاوضہ تھی۔ ہم لوگ پانڈورنگ شاستری کے مخصوص کمرہ میں داخل ہوئے۔ مسٹر مدھو مہتا نے جب میرا تعارف کرایا تو انھوں نے کہا: " ان کا فوٹو تو اخباروں میں دیکھا ہے۔" ان کا ایک خاص مشن ہے جو اس وقت آٹھ ہزار گاؤں میں پھیلا ہوا ہے۔ وہ یہ کہ گاؤں میں اتحاد ہو۔ غریبوں کی مدد کی جائے ۔ گاؤں کے ہر بچہ کو ایک گلاس دودھ روزانہ ملے۔ گاؤں کا کوئی آدمی بھوکا نہ سوئے ۔ ہمارا آشر اور دوسری ریاستوں میں یہ مشن خاموشی کے ساتھ چل رہا ہے۔ مسٹر مدھو مہتا نے کہا: یہ لوگ جہاں جاتے ہیں، اپنی روٹی اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ وہ پیڑ کے نیچے سوتے ہیں۔ کسی سے کچھ نہیں لینیتے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہی لوگ ہیں جو انڈیا کو چلا رہے ہیں۔ ۴ اپریل کی شام کو ساتھیوں نے ایک ڈبنک تھیٹر دیکھنے کا پروگرام بنایا ۔ فاروق فضیل صاحب اور افضل لادی والا صاحب کے ساتھ روانہ ہو کر بی آر ڈبنک تھیٹر میں پہنچے۔ فلم بندی کے وقت کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایکٹر کی آواز کے ساتھ کوئی خارجی آواز مل جاتی ہے۔ بعد کو اسے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader