بمبئی کا سفر
Urdu book, p. 216
By Maulana Wahiduddin Khan
صاف کیا جاتا ہے۔ اس کی صورت یہ ہے کہ اصل ایکٹر کو ساؤنڈ پروف تھیٹر میں بلایا جاتا ہے۔ اس کو فلم کا وہ حصہ دکھایا جاتا ہے۔ وہ مخصوص مائک کے سامنے وہ الفاظ دوبارہ بولتا ہے۔ اب مشینی عمل کے تحت اس کی پچھلی آواز ٹیپ سے حذف ہو جاتی ہے اور نئی آواز اس پر رِسم ہو جاتی ہے۔ میں جب تھیٹر میں پہنچا تو یہ عمل جاری تھا۔ اس کو دیکھ کر بڑے عجیب قسم کے تاثرات ہوئے۔ مثلاً ایک ایکٹر آرام کرسی پر بیٹھا ہے۔ وہ سگریٹ پی رہا ہے اور اپنے دوست کے ساتھ تفریح کر رہا ہے۔ اتنے میں اس کے سامنے فلم کا ایک منظر لایا جاتا ہے جس میں اس نے نہایت غصہ کے ساتھ ایک شخص کو ڈانٹا ہے۔ اب اچانک ایکٹر اپنا منھ مائک کے سامنے لاتا ہے اور غیض وغضب سے بھرے ہوئے انداز میں ان الفاظ کو دوبارہ بولتا ہے۔ جب وہ ان الفاظ کو ادا کر لیتا ہے تو پھر وہ معمول کے ساتھ اپنی کرسی پر دراز ہو جاتا ہے اور دوبارہ اپنی تفریح میں مشغول ہو جاتا ہے۔ اس کو دیکھ کر میں نے سوچا کہ ہمارے لیڈر بھی ٹھیک اسی طرح کے ایکٹر ہیں۔ اپنی ذاتی زندگی میں وہ بالکل معمول کی زندگی گزارتے ہیں۔ مگر جب وہ عوام کے سامنے آتے ہیں تو مصنوعی طور پر کچھ اور بولی اپنے منھ سے نکالتے ہیں جس کا ان کی عام زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ بمبئی کے اس ڈبنگ تھیٹر میں ایک ریکارڈسٹر ہیں۔ ان کا نام مسٹر بی این تیواری (Telephone : 8891624) ہے۔ ان سے میں نے ذکر کیا کہ دہلی میں ہم نے کئی تقریریں ریکارڈ کرائی ہیں۔ مگر وہاں زیادہ اچھی ریکارڈنگ نہیں ہوئی۔ آپ کے اس تھیٹر میں ریکارڈنگ کا جو انتظام ہے وہ بہت اعلیٰ اور معیاری ہے۔ مگر آپ لوگ تو صرف بڑے بڑے کام کرتے ہیں۔ ایک دو کیسٹ کی ریکارڈنگ کی گنجائش آپ کے یہاں نہیں ہو سکتی۔ مسٹر تیواری نے فوراً کہا کہ ایسا کچھ نہیں۔ اگر آپ چاہیں تو ابھی ہم آپ کی تقریر ریکارڈ کریں گے۔ اگر چہ میرا ٹائم ختم ہو رہا ہے، اور مجھے اپنے گھر جانا ہے جو یہاں سے بہت دور ہے۔ مگر میں آپ کی تقریر کی ریکارڈنگ کے لئے ٹھہر جاؤں گا۔ اس کے بعد مسٹر تیواری نے سارا نظام درست کرایا اور مجھ کو بٹھا کر میری آدھ گھنٹہ کی تقریر ریکارڈ کی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader