Urdu book · اسفارِ ہند

بمبئی کا سفر

Urdu book, p. 217

By Maulana Wahiduddin Khan

آخر میں انھوں نے کہا : آپ کی آواز اس عمر میں بھی جوان ہے۔ آج ریکارڈنگ کے اتہاس میں ایک خوب صورت پنا جڑ گیا۔ آپ سے میری ریکوئسٹ ہے کہ اپنے ایک شاتگردوں میں ایک نام میرا بھی لکھ لیجئے ۔ مسٹر تیواری کا ریکارڈ کیا ہوا یہ کیسٹ اسلامی مرکز، دہلی کے آفس میں موجود ہے۔ ۴ اپریل کی رات کو ہارون بھائی ہوزری والے نے کچھ مسلمانوں کو اپنے یہاں شام کے کھانے پر بلایا ۔ یہاں کھانے کے بعد ایک تقریر ہوئی ۔ اس تقریر میں میں نے تین نکاتی فارمولا کے بارے میں اعتراضات کا جواب دیا۔ میں نے کہا کہ کچھ لوگ میرے اوپر الزام تراشی میں مشغول ہیں ۔ ان سے میں ایک عرب عالم کی زبان میں کہوں گا جس نے پہلی عالمی جنگ کے زمانہ میں اسی قسم کے الزام کے جواب میں کہا تھا : سیعلم قومی انی لا اغشہم و مہما استطال اللیل فا الصبح واصل کچھ مسلمانوں نے بابری مسجد تحریک اور تین نکاتی فارمولے کا تقابل کیا اور فارمولا پر اعتراض کیا۔ میں نے کہا کہ آپ لوگ دو کرائٹیریئن (معیار) کیوں استعمال کرتے ہیں۔ بابری مسجد کمیٹی کو آپ بھیڈ کے معیار سے ناپتے ہیں اور تین نکاتی فارمولا کو رزلٹ کے معیار سے ناپ رہے ہیں۔ دونوں کو آپ ایک معیار سے ناپیں ۔ اس کے بعد ہی آپ کوئی منصفانہ رائے قائم کر سکتے ہیں۔ ایک جرنلسٹ نے فیملی پلاننگ کی تائید کی۔ میں نے کہا کہ فیملی پلاننگ میرے نزدیک نیچر میں مداخلت ہے۔ اور نیچر میں مداخلت کبھی مفید نتیجہ پیدا نہیں کرتی ۔ حقیقت یہ ہے کہ پیدائش اور موت دونوں کا تعلق فطرت کے نظام سے ہے ۔ بڑھوت اور ڈیتھ کو فطرت کی طرف سے کنٹرول کیا جا رہا ہے ۔ انسان کے پاس نہ وہ علم ہے اور نہ وہ طاقت جس سے وہ اس نظام کو کنٹرول کرسکے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ فیملی پلاننگ شریعت سے ٹکراتی ہے البتہ میں کہتا ہوں کہ فیملی پلاننگ فطرت سے ٹکراتی ہے ۔ اور جو چیز فطرت سے ٹکرائے وہ کبھی مفید نتیجہ پیدا نہیں کر سکتی۔ ایک تعلیم یافتہ ہندو نے یونیفارم سول کوڈ کی پرجوش حمایت کی۔ میں نے ان سے پوچھا کہ یہ بتائیے کہ یونیفارم سول کوڈ کیا ہے، اور اس کا عملی نقشہ کیا ہوگا۔ وہ کچھ نہ بتا سکے۔ میں نے کہا کہ کانسٹٹی ٹیوشن بننے کے بعد سے بہت سے لوگ اس کی حمایت کرتے رہے ہیں ۔ مگر اب تک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page