بمبئی کا سفر
Urdu book, p. 218
By Maulana Wahiduddin Khan
کسی نے بھی یہ نہیں بتایا کہ یونیفارم سول کوڈ کیا ہے۔ آپ حضرات پہلے اس کا عملی نقشہ سامنے لائیے اس کے بعد اس پر لوگوں کی رائے لیجئے۔ ۱۴ مارچ ۱۹۹۳ کے بم دھماکوں کے بعد اندیشہ تھا کہ اس کے ردعمل میں فوراً ہی فسادات ہوں گے۔ اسی اندیشوں کی فضا میں بمبئی میں رمضان کے مہینہ میں شیلوسینا والوں نے اپنے لگے ہوئے بورڈوں پر اس قسم کے نعرے لکھ دئے : روزے تم رکھو ، عید ہم منائیں گے مگر عجیب بات ہے کہ اس سال عید (۲۵ مارچ ۱۹۹۳) کے موقع پر بمبئی یا کسی بھی دوسرے مقام پر کوئی فرقہ وارانہ فساد نہیں ہوا۔ البتہ پاکستان سے اس قسم کی خبریں آئی ہیں۔ لاہور کے روزنامہ نوائے وقت (۲۸ مارچ ۱۹۹۳) کے صفحہ اول پر یہ سرخی ہے : بہاولپور میں عید کے اجتماع پر حملہ۔ ۵ اپریل ۱۹۹۳ کی صبح کو بمبئی سے واپسی ہوئی۔ رہائش گاہ سے ائیر پورٹ تک جسٹس قاضی کا ساتھ تھا۔ وہ پورے معنوں میں باغ و بہار آدمی ہیں۔ بات بات میں ایک موزوں شعر ان کی زبان پر آجاتا ہے۔ ان کی ہمراہی میں آدمی کبھی اکتا ہٹ کے احساس میں مبتلا نہیں ہوسکتا۔ بمبئی سے دہلی کے لئے انڈین ایئر لائنز کی فلائٹ ۱۸۵ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ راستہ میں مختلف اخبارات دیکھے جو ہوائی جہاز کے نظام کے تحت مسافروں کے مطالعہ کے لئے مہیا کئے گئے تھے۔ بمبئی کے ٹائمز آف انڈیا (۴ اپریل ۱۹۹۳) میں چھپا ہوا ایک مضمون پڑھا۔ یہ مضمون مسٹر جینسین G. H. Jansen کے قلم سے تھا۔ اس کا عنوان تھا کہ عالمی اسلامی تلوار محض ایک افسانہ ہے : global Islamic sword a myth.

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader