Urdu book · اسفارِ ہند

بمبئی کا سفر

Urdu book, p. 219

By Maulana Wahiduddin Khan

اندور کا سفر ۲۳ مئی ۱۹۹۳ کو ایک ٹیلی فون آیا۔ ہندی اخبار جن ستا کے ایڈیٹر مسٹر پر بھاش جوشی بول رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ کستوربا گرام اندور کے تحت ۲۹۔ ۳۰ مئی کو ایک سمینار ہو رہا ہے ۔ جس کا موضوع چیتنا ابھیان ہوگا۔ اس میں انڈیا بھر سے لوگ آئیں گے۔ نیز بابا آمٹے اور دوسرے کئی خاص لوگ شریک ہوں گے۔ سمینار کے علاوہ اس میں ایک سال کے لئے پیس پر وگرام بنایا جائے گا۔ ان لوگوں کا اصرار ہے کہ آپ بھی اس میں ضرور شرکت کریں۔ اب میرا معاملہ یہ تھا کہ ۱۹ مئی ۱۹۹۳ کو میرا ہرنیا کا آپریشن ہوا تھا۔ دو دن ہولی فیملی اسپتال رہ کر ابھی میں گھر واپس آیا تھا۔ اگلے دن میں اپنے سرجن ڈاکٹر مہیشوری سے ملا۔ اور ان سے پوچھا کہ کیا میں اندور کا سفر کر سکتا ہوں۔ انھوں نے صاف منع کر دیا کہ ابھی آپ کے لئے سفر مناسب نہیں ہے۔ درمیان میں ان لوگوں کی طرف سے بار بار تقاضے کے ٹیلی فون آتے رہے۔ میں کچھ فیصلہ نہیں کر پا رہا تھا کہ ۲۸ مئی آگئی جو کہ روانگی کی تاریخ تھی ۔ مسٹر پر بھاش جوشی نے ٹیلیفون پر بتایا کہ آج سہ پہر کور روانگی ہے۔ ہم سب لوگوں کو آپ کی صحت کی بے حد فکر ہے مگر ہم یہی چاہتے ہیں کہ آپ اس سمینار میں ضرور چلیں۔ ان لوگوں کی بہت خواہش ہے کہ آپ وہاں ان کے درمیان ضرور موجود ہوں۔ ۲۸ مئی کو ۳ بجے مسٹر پر بھاس جوشی اور مسٹر رام بہادر کرائے گاڑی لے کر آگئے۔ میں انکار نہ کر سکا اور اللہ کے نام پر ان کے ساتھ روانہ ہو گیا۔ میں گھر سے باہر نکلا تو معمول کے مطابق میرے ہاتھ میں میرا چھوٹا بیگ بھی نہیں تھا جسم کے اوپر جو کپڑے تھے وہی میرا کل اثاثہ تھا۔ مسٹر جوشی نے کہا: کیا یہ آپ کے تین دن کے لئے کافی ہو جائے گا۔ آپ تو خان عبدالغفار سے بھی زیادہ بڑے فقیر ہیں۔ ان کے ساتھ پوٹلی ہوتی تھی، آپ کے ساتھ وہ بھی نہیں۔ گھر سے نکل کر ہم لوگ ایئر پورٹ کی طرف روانہ ہوئے۔ دماغ پر سخت بوجھ تھا کہ آپریشن میں کوئی بات بگڑی تو بہت زیادہ پریشانی ہو جائے گی ۔ مگر جلد ہی دماغ سے بوجھ اتر گیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page