Urdu book · اسفارِ ہند

بمبئی کا سفر

Urdu book, p. 220

By Maulana Wahiduddin Khan

مسٹر جوشی کا حافظہ بہت اچھا ہے۔ ان کو مختلف قسم کی باتیں کثرت سے یاد ہیں۔ انھوں نے دلچسپ واقعات سنانے شروع کئے اور پھر ایسا محسوس ہوا کہ میں جسمانی کلفت کے ماحول سے نکل کر ذہنی سفر کی دنیا میں داخل ہو گیا ہوں۔ مسٹر پر بہاش جوشی نے ایک قصہ سنایا جس کا تعلق اچاریہ نریندر دیو اور سمپور ناند سے تھا۔ میں نے سمپور ناند کو نہیں دیکھا۔ البتہ اچاریہ نریندر دیو کو ایک بار لکھنؤ میں سنا ہے۔ شستہ اردو میں انھوں نے ایسی تقریر کی تھی جیسے کہ مقرر کے منہ سے پھول جھڑ رہے ہوں۔ ایسا مقرر میں نے اپنی زندگی میں کوئی اور نہیں دیکھا۔ سمپور ناند جی اچاریہ نریندر دیو کے شاگرد تھے۔ ۱۹۵۵ میں سمپور ناند یوپی کے چیف منسٹر تھے۔ اس وقت سمپور ناند کا تعلق کانگریس سے تھا اور اچاریہ نریندر دیو کا پرجا سوشلسٹ پارٹی سے جو کانگریس کے خلاف اپوزیشن کا پارٹ ادا کر رہی تھی۔ لکھنؤ میں پرجا سوشلسٹ پارٹی کا سالانہ اجلاس ہو رہا تھا۔ اس کا پولیٹیکل ریزولیوشن اگلے دن پیش ہونے والا تھا۔ اور اس کا ڈرافٹ اچاریہ نریندر دیو کو تیار کرنا تھا۔ عین اس وقت اچاریہ نریندر دیو بیمار پڑ گئے۔ سمپور ناند رات کے وقت اپنے گرو کو دیکھنے کے لئے آئے۔ اچاریہ نریندر دیو نے ان سے کہا کہ دیکھو، کل مجھے اپنی پارٹی کے اجلاس میں پولیٹیکل ریزولیوشن پیش کرنا ہے مگر طبیعت کی خرابی کی وجہ سے میں اس کو لکھ نہیں سکا۔ تم اس ریزولیوشن کا ڈرافٹ تیار کر دو۔ سمپور ناند نے تعجب کے ساتھ کہا کہ میں اور آپ کا پولیٹیکل ریزولیوشن۔ کیوں کہ یہ ریزولیوشن اسی کانگریس حکومت کے خلاف لکھنا تھا جس کے سمپور ناند چیف منسٹر تھے۔ اچاریہ نریندر دیو نے کہا کہ ہاں، تم ہی اسے لکھو۔ سمپور ناند نے کہا کہ جب آپ کہہ رہے ہیں تو بہر حال مجھے اس کو لکھنا ہوگا۔ سمپور ناند اپنی سرکاری رہائش گاہ میں واپس آئے اور رات بھر جاگ کر پر جا سوشلسٹ پارٹی کا پولیٹیکل ریزولیوشن تیار کیا۔ اگلی صبح کو انھوں نے یہ ڈرافٹ اچاریہ نریندر دیو کے پاس بھیج دیا۔ اگلی رات کو سمپور ناند دوبارہ اپنے استاد کی عیادت کے لئے گئے۔ بات چیت کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page