Urdu book · اسفارِ ہند

بمبئی کا سفر

Urdu book, p. 221

By Maulana Wahiduddin Khan

دوران انہوں نے اچاریہ نریندر دیو سے پوچھا کہ اس ریزولیوشن کا کیا ہوا۔ اچاریہ جی نے کہا کہ وہ پارٹی کے اجلاس میں پیش ہو کر پاس بھی ہو گیا۔ سمپورنانند نے کہا کہ آپ نے اسے دیکھ لیا تھا۔ اچاریہ نریندر دیو نے کہا کہ جس چیز کو تم نے لکھا ہو اس کو مجھے دیکھنے کی کیا ضرورت ۔ میں نے تو اسے پڑھے بغیر ہی فوراً آگے بڑھا دیا تھا۔ یہ ریزولیوشن اگر چہ خود سمپورنانند سرکار کے خلاف تھا مگر اس کا ڈرافٹ اتنے اچھے انداز میں تیار کیا گیا تھا کہ پر جا سوشلسٹ پارٹی کے لوگوں کو شبہ تک نہیں ہوا کہ اس کو اچاریہ نریندر دیو کے سوا کسی اور نے لکھا ہو گا۔ مسٹر پر بھاش جوشی نے ایک اور واقعہ ۷۶ ، ۱۹ کا بتایا۔ یہ ایمرجنسی کا زمانہ تھا۔ رام ناتھ گوینکا کا اخبار انڈین ایکسپریس ہمیشہ ایمرجنسی کے خلاف لکھا کرتا تھا۔ چنانچہ کانگریس گورنمنٹ اس کی سخت مخالف ہو گئی ۔ ان کا اکاؤنٹ منجمد کر دیا گیا ۔ سنجے گاندھی نے تمام بینکوں کو ٹیلی فون کر دیا کہ کوئی بھی گوینکا کو پیسہ نہ دے۔ چنانچہ ایسا وقت آگیا کہ ۵ - ۱۰ ہزار روپیہ کی رقم بھی گوینکا کے لئے مشکل ہوگئی۔ اسی زمانہ میں انڈین ایکسپریس کے ایڈیٹر مسٹر ملاؤ کر کا چک بینک سے یہ لکھ کر واپس آگیا کہ کھاتہ میں رقم موجود نہیں۔ گھنشيام داس برلا اس وقت ملک کے نمبر ایک صنعت کار تھے۔ برلا کا تعلق کانگریس سے تھا اور گوینکا کا تعلق اپوزیشن سے۔ مگر جب برلا کو معلوم ہوا تو وہ فوراً ان کی مدد کے لئے تیار ہو گئے ۔ اس وقت صورت حال یہ تھی کہ اگر وہ خود گوینکا سے ملنے کے لئے جائیں تو یہ خبر مشہور ہوگی اور اگر گوینکا کو اپنے یہاں بلائیں تب بھی لوگ اس کو جان لیں گے۔ اور پھر ان کے لئے گوینکا کی مدد کرنا مشکل ہو جائے گا۔ چنانچہ برلا نے اپنا ایک آدمی رات کے وقت گوینکا کے پاس بھیجا۔ برلا نے اس سے کہا کہ گوینکا کو میرا یہ پیغام پہنچا دو کہ وہ اپنے اصول سے نہ ہٹیں، وہ اس پر پوری طرح جمے رہیں۔ جہاں تک پیسہ کا سوال ہے تو میں اس کا انتظام کرنے کے لئے تیار ہوں۔ گوینکا نے آدمی سے کہا کہ تم واپس جاؤ اور جا کر برلا جی سے کہو کہ میری ضرورت تو بہت زیادہ ہے ۔ آپ کتنی رقم کی حد تک میری مدد کر سکتے ہیں۔ برلا نے کہا کہ جا کر میری طرف سے گوینکا جی کو کہہ دو کہ :

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page