بمبئی کا سفر
Urdu book, p. 222
By Maulana Wahiduddin Khan
وہ دونوں ایک دوسرے کے حریف تھے۔ کیوں کہ برلا کانگریس میں تھے اور گوئنکا کانگریس مخالف گروپ سے تعلق رکھتے تھے۔ گوئنکا نے برلا سے کوئی رسم تو نہیں لی مگر اس کے بعد وہ برلا کے بہت معتقد ہو گئے۔ ایمرجنسی ختم ہونے کے بعد گوئنکا کا دور دورہ ہو گیا۔ اس کے بعد برلا کی سالگرہ آئی تو انھوں نے خصوصی اہتمام کے ساتھ ایک ہزار سرخ گلاب کا پھول برلا کی خدمت میں پیش کیا۔ ہماری گاڑی دلی کی سڑکوں پر گھومتی ہوئی ایئر پورٹ کی طرف بڑھ رہی تھی۔ اور مسٹر پرتاش جوشی ایک کے بعد ایک اس قسم کے واقعات بتا رہے تھے۔ ایئر پورٹ پہنچ کر میں گاڑی سے باہر نکلا تو مسٹر آنند سنگھ ہماری رہنمائی کے لئے موجود تھے جن کو مسٹر جوشی نے پہلے ہی ایئر پورٹ پر بھیج دیا تھا۔ مسٹر آنند سنگھ انڈین ایکسپریس کے ادارے سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ وہاں وہییل چیئر کے ساتھ موجود تھے۔ میں گاڑی سے نکل کر وہییل چیئر میں بیٹھ گیا۔ کیونکہ آپریشن کی وجہ سے ڈاکٹر نے مجھے چلنے سے منع کر دیا تھا۔ ایئر پورٹ سے ہوائی جہاز تک کا راستہ وہییل چیئر کے ذریعہ طے ہوا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ میں نے کسی سفر میں وہییل چیئر استعمال کی۔ جب ایئر پورٹ کا ایک آدمی میری وہییل چیئر کو چلاتا ہوا جہاز کی طرف بڑھ رہا تھا تو آخرت کے معاملہ کو سوچ کر میرا دل بھر آیا۔ میں نے کہا کہ خداایا، دنیا میں بھی میں عاجز تھا اور آخرت میں بھی میں عاجز ہوں گا۔ یہاں آپ نے میرے عجز کی تلافی کے لئے" وہییل چیئر" کا انتظام فرما دیا۔ آخرت میں بھی میرے عجز کی تلافی کے لئے وہاں کی "وہییل چیئر" مجھے دے دیجئے تاکہ میں وہاں کے سخت تر مرحلہ کو آسانی کے ساتھ طے کر سکوں۔ ۲۸ مئی کی شام کو دہلی سے اندرور کے لئے روانگی ہوئی۔ یہ انڈین ایئر لائنز کی فلائٹ ۳۳۴ تھی ۔ تمام مسافر اپنی اپنی سیٹ پر بیٹھ کر سیفٹی بیلٹ باندھ چکے تھے۔ جہاز کے دروازے بھی بند کر دئے گئے۔ مگر آخر وقت میں اعلان ہوا کہ جہاز کچھ لیٹ ہو کر روانہ ہوگا۔ اس قسم کا اعلان انڈین ایئر لائنز میں عام ہے۔ مگر اسی ملک میں تقریباً ۴۰ کی تعداد میں پرائیویٹ ایئر کمپنیاں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader