Urdu book · اسفارِ ہند

بمبئی کا سفر

Urdu book, p. 224

By Maulana Wahiduddin Khan

کوئی ہندستانی فرم جب کسی بیرونی فرم کے ساتھ اشتراک کرتی ہے تو وہ اہتمام کے ساتھ اس کے نام کا اعلان کرتی ہے ، مگر یہ بیرونی فرم اپنے ہندستانی اشتراک کو پوشیدہ رکھ کر اپنا سامان بیچنا چاہتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ باہر کی مارکیٹ میں میڈ ان انڈیا کی کوئی قیمت نہیں ۔ جب کہ ہندوستان میں " فارن " کا لفظ طلسماتی تاثیر رکھتا ہے۔ آزادی کے بعد یہاں کے ایک فرقہ نے کہا کہ فخر سے کہو ہم مسلمان ہیں۔ دوسرے فرقہ نے کہا کہ گرو سے کہو ہم ہندو ہیں۔ لوگ اپنے گروہی فخر میں مبتلا رہے۔ کوئی بھی ہندوستان کو پرفر بنانے کے لئے سرگرم نہ ہوسکا۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے جو مذکورہ صورت میں آج دکھائی دے رہا ہے۔ دہلی سے اندور تک یہ جہاز براہ راست نہیں جاتا۔ چنانچہ وہ دہلی سے اڑ کر پہلے گوالیار میں اترا۔ وہاں سے روانہ ہو کر بھو پال میں رکا۔ بھو پال کے بعد اندور پہنچا۔ جب جہاز اندور کی فضا میں داخل ہوا تو میں نے سوچا کہ میری زندگی بھی اسی طرح مختلف مراحل سے گزرتی ہوئی اب آخری مرحلہ کے قریب پہنچ رہی ہے۔ کیسا عجیب ہو گا وہ لمحہ جب زندگی کی سواری دنیا میں جگہ جگہ رکتی ہوئی آخر کار آخرت کے عالم میں اتر جائے۔ اندور میں جہاز سے اترنے کے بعد دوبارہ وھیل چیئر موجود تھی۔ جہاز کے اندر ہی سیٹ سے اتر کر وھیل چیئر پر بیٹھ گیا ۔ اس کے بعد کار تک کا پورا فاصلہ وھیل چیئر پر بیٹھے بیٹھے طے ہوا۔ اس وقت میرے پاس صرف دہی کپڑا تھا جو میرے جسم کے اوپر تھا۔ مسٹر پر بھاش جوشی نے کہا کہ ہم کھادی بھنڈار سے ایک جوڑا کپڑا حاصل کریں گے۔ میرے سخت منع کرنے کے باوجود وہ لوگ اندور کے بازار میں اس دکان سے اُس دکان گھومتے رہے۔ مگر اس وقت رات کے دس بج چکے تھے، چنانچہ کپڑا نہیں ملا۔ صرف کھادی کا ایک تو لیہ ملا وہ انھوں نے لا کر مجھے دیا۔ اور مجھے بہر حال اس کو قبول کرنا پڑا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page