بمبئی کا سفر
Urdu book, p. 225
By Maulana Wahiduddin Khan
جب میں گاڑی پر سوار ہو کر ایئرپورٹ سے روانہ ہوا اور اندور کی سڑکوں سے گزرنے لگا تو اچانک یاد آیا کہ میں اپنا وہ نوٹ بک ہوائی جہاز میں بھول آیا ہوں جس میں میں اپنی سفری یادداشت لکھ رہا تھا۔ میری عادت ہے کہ میں سفر نامہ کی باتیں درمیان سفر ہی میں لکھتا ہوں۔ چنانچہ کئی بار ایسا ہوا کہ کسی نے مجھ کو دیکھ کر کہا کہ آپ ناولٹ تو نہیں ۔ لوگ عام طور پر ناول پڑھتے ہیں اس لئے وہ کتاب کے نام پر ناول ہی کو جانتے ہیں۔ جب وہ کسی رائٹر کو تحریری کام کرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو اپنے ذہنی کے مطابق سمجھ لیتے ہیں کہ وہ ناول لکھ رہا ہوگا۔ جب میں اترتے ہوئے اپنا نوٹ بک جہاز کے اندر بھول گیا تو اچانک دماغ کو سخت جھٹکا لگا کہ اب کیا ہوگا اور سفر نامہ کیسے لکھا جائے گا۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے اپنی تفسیر قرآن کا ایک حصہ لکھا اور پھر وہ ان سے کھو گیا۔ اس حصہ کو انھیں دوبارہ لکھنا پڑا۔ اس واقعہ کا تذکرہ انھوں نے اپنے تفسیر قرآن کے دیباچہ میں کیا ہے۔ اس کے بعد انھوں نے فیضی کا یہ شعر نقل کیا ہے کہ کہا ہوا اگر میرے ہاتھ سے چلا گیا تو شکر ہے کہ نہ کہا ہوا ابھی تک میرے پاس محفوظ ہے ۔ ۲۰۰ خزانوں میں سے میں نے صرف ایک مٹھی بھر موتی کو کھویا ہے: گفتہ گر شد زخم شکر کہ ناگفتہ بجاست از دوصد گنج یکی مشت گہر باختہ ام میرا حافظہ اتنا اچھا نہیں ہے کہ میں اپنی کسی گم شدہ تحریر کو دوبارہ اسی طرح لکھ ڈالوں۔ میں نے سوچا کہ میرے اندر فیضی اور ابوالکلام جیسی یاد داشت ہوتی تو شاید وہ میرے لئے اچھی بات نہ تھی۔ کیوں کہ اس کا امکان ہے کہ وہ میرے اندر متکبرانہ نفسیات پیدا کر دیتی۔ مجھ کو یہ زیادہ پسند ہے کہ میں اپنی کمتری یا داشت کے احساس کی بنا پر عجز اور فروتنی کی نفسیات میں مبتلا رہوں۔ ایئرپورٹ سے چل کر ہم لوگ اندور یونیورسٹی پہنچے۔ یہاں پہلی رات کے لئے ہم لوگوں کا قیام اندور یونیورسٹی کے گیسٹ ہاؤس میں تھا۔ ۲۸ مئی کی شام کو یہاں کئی لوگ کھانے کی میز پر تھے۔ ان میں سے اکثر میرے لئے اجنبی تھے۔ میں خاموش ان لوگوں کی باتیں سنتا رہا۔ ایک صاحب نے کہا کہ بھارت میں بہت غریبی ہے۔ اور اس کی وجہ یہاں کے سماجی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader