بمبئی کا سفر
Urdu book, p. 226
By Maulana Wahiduddin Khan
جھگڑے ہیں۔ آزادی کے بعد یہاں برابر فرقہ وارانہ جھگڑے جاری ہیں۔ اس بنا پر یہاں ترقی کا کام نہ ہو سکا۔ ایک اور صاحب بولے کہ آپ کو معلوم ہے کہ اس معاملہ میں آرا لیس ایک کی سوچ کیا ہے۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ بٹوارہ کے باوجود مکہ کر وہ مسلمان اس دیش میں رہ گئے ۔ انڈیا کی غربت کا اصل سبب یہی لوگ ہیں۔ ہم کو اس اصل کارن کو دور کرنا ہے۔ جب تک غریبی کی اصل جڑ کو ختم نہ کیا جائے اس وقت تک ملک میں خوشحالی نہیں آسکتی ۔ اندر مدھیہ پردیش کا سب سے بڑا شہر ہے ۔ راجدھانی کی حیثیت سے بھوپال کی اہمیت زیادہ ہے۔ مگر تجارت اور رقبہ کے اعتبار سے اندور زیادہ بڑا ہے ۔ اندور کی آبادی تقریباً ۱۵ لاکھ ہے۔ اس میں تقریباً ڈھائی لاکھ مسلمان ہیں ۔ یہاں ۱۲۰ مسجدیں ہیں اور بہت سے چھوٹے بڑے مدرسے ہیں۔ اندور ۱۵۷۲ء میں ایک مقامی بازار کے طور پر قائم ہوا۔ پھر بڑھتے بڑھتے ایک مکمل شہر بن گیا ۔ اندور یونیورسٹی ۱۹۶۴ میں بنی۔ اٹھارویں صدی میں یہ مراٹھا ہولکر اسٹیٹ کا مرکز تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اندور کا نام اندریشور مندر کے نام پر پڑا ہے۔ ۲۸ مئی کا دن بہت گرم تھا۔ شام تک گرمی کا احساس ستاتا رہا۔ تاہم یہ مالوہ کا علاقہ ہے۔ اس علاقہ کی رات گرمی کے موسم میں بھی بہت سہانی ہو جاتی ہے ۔ چنانچہ صبح اور دھاور شام بنارس کے ساتھ شب مالوہ کافی مشہور ہے۔ رات کو اچھی نیند آئی صبح کو سو کر اٹھا۔ یونیورسٹی گیسٹ ہاؤس میں فجر کی نماز تنہا پڑھی ۔ عجز میرا مزاج ہے۔ آجکل آپریشن کی وجہ سے عجز کا احساس مزید غالب آگیا ہے ۔ دلفگاری کے جذبہ کے تحت میں نے کہا کہ نماز کی اصل حقیقت یقینی طور پر عجز ہے۔ انسان کا احساس عجز جب عبادتی ہیئت میں ڈھل جائے تو اسی کا نام نماز ہے۔ صبح کو اپنے کمرہ سے باہر آیا تو موسم کل کے مقابلہ میں بالکل بدلا ہوا نظر آیا۔ آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے۔ چاروں طرف سرسبز درخت ٹھنڈی ہوائیں بکھیر رہے تھے۔ چڑیوں کے چہچہے کائنات نغمے بن کر فضا کی خوشگوار ی میں مزید اضافہ کر رہے تھے۔ اچانک خیال آیا کہ رنگ و بو کی اس کائنات کے خالق کا کتنا بڑا احسان ہے کہ اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader