بمبئی کا سفر
Urdu book, p. 227
By Maulana Wahiduddin Khan
نے مجھے آنکھیں دیں تاکہ میں اس آفاقی حسن کو دیکھ سکوں۔ اس نے مجھے کان دئے تاکہ یہاں کے سرمدی نغمے میرے لئے قابل سماعت بن جائیں۔ اس نے مجھے شعور دیا تاکہ میں کائنات کی استعارہ معنویت کا ادراک کر سکوں۔ انسان اگر ان صلاحیتوں کے بغیر ہوتا تو اس کی زندگی کتنی زیادہ بے لطف ہو جاتی۔ مگر موجودہ دنیا میں یہ جو اس لطف اندوزی کے لئے نہیں دئے گئے بلکہ اس لئے دئے گئے ہیں تاکہ انسان اپنے خالق کو شکر کا نذرانہ پیش کر سکے۔ ہماری زندگی کی کامیابی کا پیمانہ یہ نہیں ہے کہ ہم نے اس دنیا میں کتنا زیادہ سامان لطف حاصل کیا بلکہ اس کا پیمانہ یہ ہے کہ کوئی شخص کتنا زیادہ احساس شکر کا ثبوت دے سکا۔ اندور یونیورسٹی کے گیسٹ ہاؤس کے کمرہ میں "مذہبیہ پردیش شاسن" کا ہندی کا کیلنڈر لٹکا ہوا تھا۔ اس کے ہر صفحہ پر دو تاریخیں درج تھیں۔ کھلے ہوئے صفحہ پر ایک طرف "مئی ۱۹۹۳" لکھا ہوا تھا۔ اور دوسری طرف " ویساکھ۔ جیٹھ ۱۹۱۵" درج تھا۔ یہ کیلنڈر اگر کسی مسلم ادارہ نے چھاپا ہوتا تو اس پر مئی ۱۹۹۳ کے ساتھ ذی الحجہ ۱۴۱۳ چھپا ہوا ہوتا۔ میں نے سوچا کہ اسی قسم کے اختلافات ہیں جن کو بڑھا کر دو قومی نظریہ کا پرچار کیا گیا۔ اور ملک کا بٹوارہ کرایا گیا۔ اور اب دوبارہ اسی قسم کے اختلافات ہیں جن کو لے کر ہمارے لیڈر باہمی نفرت پھیلانے میں مصروف ہیں حالاں کہ یہ فرق یا اختلاف کسی انسان کے گھڑے ہوئے نہیں۔ وہ فطرت کے نقشہ تخلیق پر مبنی ہیں جن کو نہ انسان نے بنایا اور نہ وہ ان کو بنانے پر قادر ہے۔ مثلاً اگر فطرت کے نظام میں یہ نہ ہوتا کہ سورج کی گردش کا اصول الگ ہے اور چاند کی گردش کا اصول الگ۔ اگر خود فطرت میں یہ فرق نہ ہوتا تو ایک سے زیادہ کیلنڈر بھی نہیں بن سکتے تھے۔ اس اختلاف کو تنوع سمجھ کر اس کو قبول کرنا چاہئے نہ کہ اس کو دو انسانی گروہوں میں ٹکراؤ کا شوبن یا جائے ۲۹ مئی کی صبح کو ہندی روز نامہ پر بھات کرن (اندور) کے نمائندہ مسٹر را جندر گپتا آئے۔ انھوں نے اپنے اخبار کے لئے تفصیلی انٹرو لیا، سوالات کا تعلق زیادہ تر موجودہ فرقہ وارانہ حالات

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader