Urdu book · اسفارِ ہند

بمبئی کا سفر

Urdu book, p. 228

By Maulana Wahiduddin Khan

سے تھا۔ ۲۹ مئی کی صبح کو ایک بڑی گاڑی آئی اور گیسٹ ہاؤس کے سامنے کھڑی ہوگئی۔ اس میں بیٹھ کر مجھے یونیورسٹی گیسٹ ہاؤس سے کستوربا گرام جانا تھا۔ جو یہاں سے تقریباً ۵۰ کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے۔ اس گاڑی کے اندر داخل ہوا تو معلوم ہوا کہ یہ بابا آمٹے کی ایمبولنس گاڑی ہے۔ اس میں ایک طرف گدے دار بستر لگا ہوا تھا۔ دوسری طرف گیس، چولھا اور گھر کا تمام ضروری سامان موجود تھا۔ یہ گویا ایک چلتا پھرتا مکان تھا۔ اس میں اندر داخل ہو کر اس کے گدے پر لیٹ گیا۔ گاڑی سڑک پر چلتی رہی۔ کچھ دیر کے بعد دوبارہ وہ ایک ہری بھری پرسکون بستی کے اندر رکی۔ یہ کستوربا گرام تھا جو یہاں ۱۹۵۰ سے قائم ہے۔ یہاں عورتوں کی تعلیم اور ٹریننگ کا انتظام ہے۔ یہاں کا چھوٹے سے لے کر بڑے کام تک سب کچھ عورتیں کرتی ہیں۔ چاروں طرف کھلا ہوا سرسبز اور پرسکون ماحول ہے۔ اسی پر امن جزیرہ میں سمین کے دوروزہ اجلاس ہوئے ۔ گیٹ پر پہلی حرفوں میں کپڑے کا ایک بینر لگا ہوا تھا جس پر لکھا ہوا تھا: چیتا ابھیان، راشٹر سمین، اندرور کستوربا گرام کے اس سمین میں پہلی بار بابا آمٹے سے ملاقات ہوئی۔ وہ سادگی اور جفا کشی کا زندہ نمونہ ہیں۔ بابا آمٹے اپنے فلسفہ حیات کو ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں : I sought my soul, my soul I could not see; I sought my God, my God eluded me; I sought my brother and I found all the three. بابا آمٹے طرح طرح کی بیماریوں کا شکار ہیں۔ ان کی موجودہ حالت یہ ہے کہ وہ بیٹھ نہیں سکتے۔ ان کے لئے دو ہی صورت ہے ، یا کھڑے رہیں یا لیٹے رہیں۔ ایک شخص نے ان سے کہا کہ جب آپ بیمار ہیں تو آپ اتنا زیادہ سفر کیوں کرتے ہیں۔ انھوں نے جواب دیا ؛ یہ صحیح ہے کہ میں بیمار ہوں۔ مگر میرا د نیش تو اس سے بھی زیادہ بیمار ہے۔ ان کے بہت سے کاموں میں سے ایک کام یہ ہے کہ وہ کوڑھھیوں کا آشرم چلاتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ان کوڑھیوں کے بدن خراب ہیں مگر ان کے من اچھے ہیں۔ دوسرے لوگوں کے بدن اچھے دکھائی دیتے ہیں مگر ان کے من خراب ہو چکے ہیں۔ یہ سطریں میں کستوربا گرام گیسٹ ہاؤس کے نیچے کے کمرہ میں بیٹھ کر لکھ رہا ہوں۔ کچھ لوگ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page