Urdu book · اسفارِ ہند

بمبئی کا سفر

Urdu book, p. 229

By Maulana Wahiduddin Khan

آئے اور ناشتہ کے لئے لے گئے۔ ۲۹ مئی کی صبح کو ناشتہ میں نے کستوربا گرام میں کیا۔ سادہ کھچڑی اور ایک گلاس گرم دودھ، یہ ناشتہ تھا، جو میرے مزاج کے عین مطابق تھا۔ کیوں کہ کھانا جتنا زیادہ سادہ ہو اتنا ہی زیادہ مجھ کو پسند آتا ہے۔ ۲۹ مئی کو صبح 9 بجے کستوربا گرام کے ہال میں کارروائی شروع ہوئی۔ منچ پر دوسرے لوگ گدے پر بیٹھے ہوئے تھے۔ مگر دو آدمی کا معاملہ الگ تھا۔ بابا آٹے اپنے معذوری کی بنا پر منچ کے کنارے ایک کھاٹ پر لیٹے ہوئے تھے۔ میں پاؤں سمیٹ کر بیٹھ نہیں سکتا تھا چنانچہ منچ پر میرے لئے ایک کرسی رکھی گئی۔ وسیع ہال پورا بھرا ہوا تھا۔ ملک کے مختلف حصوں سے بڑی تعداد میں لوگ آئے تھے۔ مسلمان اور سکھ اور عیسائی بہت تھوڑی سی تعداد میں تھے۔ مجموعی طور پر شاید ایک درجن ہوں گے۔ بقیہ تمام حاضرین ہندو کمیونٹی کے پڑھے لکھے لوگوں پر مشتمل تھی۔ مولانا ابوالحسن علی ندوی کے نام اس کا دعوت نامہ بھیجا گیا تھا، مگر وہ اس میں شریک نہ ہوسکے۔ ایک ہند و پروفیسر نے سمینار کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ دیش ہماری چناؤں کا دیش ہے۔ ہمارا دیش ٹوٹنے سے بچ جائے، بگڑنے سے بچ جائے۔ اس کے لئے ہم سب یہاں اکٹھا ہوئے ہیں۔ اس طرح کے ایک افتتاحی خطاب کے ساتھ سمینار کا آغاز ہوا۔ پر وفیسر سروج کمار جلسہ کو کنڈکٹ کر رہے تھے۔ میری باری آئی تو انھوں نے کہا کہ آپ ہم کو کچھ پریکٹیکل پروگرام دیجئے۔ اس سے ہم سب کو آگے بڑھنے کا ایک راستہ ملے گا۔ میں نے قرآن وحدیث کے حوالے سے ایک تفصیلی تقریر کی۔ آخر میں میں نے کہا کہ اس دنیا کے بنانے والے نے دنیا کو ہمارے لئے ماڈل بنا دیا ہے۔ بقیہ کائنات جس سلوک کو مجبورانہ طور پر اختیار کئے ہوئے ہے اسی کو ہمیں اختیارا نہ طور پر اپنانا ہے۔ دنیا کے تمام جانور قابل پیشین گوئی کردار रखते ہیں (predictable character)۔ یہی قابل پیشین گوئی کردار جو دوسرے حیوانات میں فطرت کے حکم کے تحت ہے ، اسی کو ہم خود اپنے اختیار سے اپنا لیں ۔ اسی طرح گلاب کا درخت ہمیں ایک پیغام دے رہا ہے۔ وہ یہ کہ اس دنیا میں ”کانٹے“ بھی ہیں اور ”پھول“ بھی۔ اس لئے تم کا نٹوں سے اپنے دامن کو بچاؤ اور احتیاط کے ساتھ پھول کو حاصل

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page