بمبئی کا سفر
Urdu book, p. 230
By Maulana Wahiduddin Khan
کر لو۔ یہی موجودہ دنیا میں کامیابی کا واحد راز ہے۔ اندور چرچ کے فادر ورگینز نے کہا کہ ہم کو اس سیلین میں یہ پرچار کرنا ہے کہ ہمارے راشٹر کا سروپ کیا ہونا چاہئے۔ پاکستان بننے کے بعد بھی پاکستان سے زیادہ مسلمان بھارت میں رہتے ہیں۔ وہ برابر کے ناگرک ہیں۔ ہمارا دیش بہت بڑا ادیش ہے۔ اس کو بڑا بن کر رہنا ہے۔ ہم چھوٹے دیشوں کی طرح نہیں رہ سکتے۔ منوہر سنگھ مہتا (شیکھا منتری) نے آنے والوں کا سواگت کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے سوچا بھی نہیں تھا کہ جس دیش کی سوتنترتا کے لئے ہم بھینٹ دے رہے ہیں، ہمارے ہی جیون کال میں اس کی ایسی استھتی ہو جائے گی۔ دیش کے ہر ناگرک کو برابر کا حق ملے، یہ گاندھی جی نے کہا تھا۔ اس کو ہمیں دیش میں لانا ہے۔ اگر ہم دنگوں اور جھگڑوں میں پڑے رہے تو ہمارا کیا بنے گا۔ یہی سوچنے کے لئے ہم یہاں آئے ہیں۔ جواہر لَالَ راٹھور نے کہا کہ یہ ابھی اس منڈل سرو دهرِم سمبهاؤ کے پرچار کے لئے کیا گیا ہے۔ ماتا کستوربا کے اس استھان سے ہم ایک نئی جیوتي جگا نا چاہتے ہیں۔ جو لوگ ہندوستان کی اس دھرتی پر پیدا ہوئے وہ سب بھائی بھائی کی طرح رہیں گے، اس کے لئے ہم اکٹھا ہوئے ہیں۔ ہم دیش کو ٹوٹنے اور بکھرنے نہیں دیں گے۔ بھارت میں کوئی ایک نمبر کا ناگرک اور کوئی دو نمبر کا ناگرک نہیں ہے۔ ہم سب بھارتی ہیں۔ ہم سب ہندوستانی ہیں۔ اس کے بعد حسب پروگرام کچھ خواتین اسٹیج پر آئیں۔ انھوں نے مل کر ایک گیت گایا جس میں سب بھائی چارہ کی باتیں تھیں۔ اس کا ایک شعر یہ تھا : ہو کا رنگ ایک ہے تو دور کیا قریب کیا لگا لو سب کو تم گلے حبیب کیا قریب کیا اندور شہر کا ایک محلہ دولت گنج ہے۔ یہاں ۶ دسمبر کے بعد کچھ فساد ہو گیا تھا۔ مگر جلدی لوگ سنبھل گئے۔ اس کے بعد وہاں کے ہندوؤں اور مسلمانوں نے مثالی اتحاد کا ثبوت دیا۔ چنانچہ دولت گنج کے ایک ہندو اور ایک مسلمان کا انتخاب ہوا۔ دونوں اسٹیج کے پاس آئے اور انھوں نے مل کر سہاگ کی دیپک جلائی۔ بابا آمٹے نے اس طرح تقریر کی کہ وہ مائیک کے سامنے کھڑے ہوئے تھے۔ اور ان کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader