Urdu book · اسفارِ ہند

بمبئی کا سفر

Urdu book, p. 231

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک پاؤں زمین پر تھا اور ایک پاؤں اسکول پر۔ انھوں نے کہا کہ میں سارے دیش میں گھوما ہوں۔ میں نے دیکھا ہے کہ دیش میں مجارٹی میں وہ لوگ ہیں جو شری فی ہیں ۔ اور جو گھنٹے ہیں وہ مائنارٹی میں ہیں۔ میں اگر چہ شکستہ جسم ہوں مگر میں شکستہ روح نہیں : Though I am broken in body, I am not broken in spirit. میں سورت گیا جب کہ وہاں فساد ہو چکا تھا۔ میں نے وہاں کے لوگوں سے کہا کہ تم نے سورت کو بد صورت کر دیا۔ جو لوگ دوسروں کے خلاف بڑھ بڑھ کر بولتے ہیں ان کو جاننا چاہیئے کہ یہ یکطرفہ معاملہ نہیں ہے۔ ہر شکاری کو معلوم ہے کہ شکار کرنے والا بھی کبھی کبھی شکار ہو جاتا ہے۔ بابا آنے کے الجھے ہوئے بالوں کو دیکھ کر کسی نے کہا کہ آپ اپنے بالوں میں کنگھی نہیں لگاتے۔ انھوں نے جواب دیا کہ میں پوری قوم کے بال سنوار رہا ہوں: I am combing the whole nation. ڈاکٹر برکاش آمنئے (فرزند بابا آنے) کا کلینک گجرات میں ہے۔ وہ جانوروں میں بہت دلچسپی رکھتے ہیں۔ سانپ کو اپنے ہاتھ میں لے کر کھیلتے ہیں۔ کسی نے ان سے کہا کہ آپ اس طرح جانوروں میں رہتے ہیں۔ کیا آپ کو ان سے ڈر نہیں معلوم ہوتا ۔ انھوں نے کہا کہ جانوروں سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ کیونکہ تمام جانور اپنے سلوک کے معاملے میں قابل پیشین گوئی (predictable) ہیں ۔ اس دنیا میں صرف ایک ہی مخلوق ہے جو اپنے سلوک کے معاملہ میں ناقابل پیشین گوئی (unpredictable) ہے اور وہ انسان ہے۔ اگر تم جانوروں کے ساتھ اپنے سلوک کو درست رکھو تو وہ تمہارے اوپر حملہ نہیں کرے گا۔ جب کہ انسان کے معاملہ میں کچھ نہیں معلوم کہ وہ کب کیا کر ڈالے۔ مسٹر بار اونے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ میں اجودھیا گیا وہاں میں نے ہندوؤں سے پوچھا، یہ بتاؤ کہ رام کیا در سترھ کے بیٹے تھے۔ سب نے کہا ہاں۔ پھر میں نے پوچھا کہ یہ بتاؤ کہ در ستر ھ راجہ تھے یا نہیں۔ سب نے کہا کہ ہاں وہ راجہ تھے۔ میں نے پھر پوچھا کہ جب وہ راجہ تھے تو وہ محل کے اندر رہتے رہے ہوں گے۔ سب نے کہا کہ ہاں۔ اب میں نے ان لوگوں سے کہا کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page