بمبئی کا سفر
Urdu book, p. 232
By Maulana Wahiduddin Khan
جب رام ایک راجہ کے بیٹے تھے تو وہ ضرور محل کے اندر پیدا ہوئے ہوں گے۔ اگر دسر تھ صرف ایک مندر کے پجاری ہوتے تو سمجھ میں آسکتا تھا کہ ان کا بیٹا مندر میں پیدا ہو گا۔ جب دسر تھ ایک راجہ تھے تو ان کا بیٹا محل میں پیدا ہو گا نہ کہ کسی مندر میں۔ ایسی حالت میں یہ رام جنم بھومی کا جھگڑا کیوں۔ ان بجے چائے کا وقفہ ہوا۔ ایک ڈاکٹر بابا آمٹے سے ملنے کے لئے آئے۔ وہ ہارٹ اسپیشلسٹ تھے بابا آمٹے دل کے مریض ہیں۔ اس وقت بھی وہ اسپتال سے اٹھ کر یہاں آئے ہیں۔ ڈاکٹر نے مسکراتے ہوئے کہا کہ میرے پاس ایک طبی نصیحت ہے۔ آدمی اگر اس کو سوچ لے تو اس کا سارا درد ختم ہو جائے ۔ وہ یہ کہ آپ کا دل آپ کی زندگی کے آخر وقت تک رہے گا : Your heart would last your lifetime. اس کے بعد ماحول میں تازگی لانے کے لئے ایک گیت گایا گیا۔ ایک عورت اور ایک مرد نے اس کو مل کر گایا۔ اس گیت کا ایک شعر مجھے یاد ہے۔ وہ اس طرح تھا : ہر مذہب کو چاہنے والا ، دنیا بھر سے نرالا ہندوستان ہمارا ایک صاحب جو اکثر بیرونی ملکوں کا سفر کرتے ہیں۔ انھوں نے اس سلسلہ میں کئی قصے بتائے۔ انھوں نے کہا کہ میں امریکہ گیا تو وہاں میں ایک ہندوستانی لیڈی مسنر رینو کا کے یہاں ٹھہرا ہوا تھا۔ ایک روز مسنر رینو کا نے کہا کہ یہ امریکی عورت جو ہمارے یہاں صفائی کے لئے آتی ہے اس کا قصہ سنئے جس سے آپ کو امریکی سماج کا اندازہ ہوگا۔ اس کا نام گولڈی ہے۔ ہمارے یہاں وہ روزانہ دو گھنٹہ کے لئے آتی ہے۔ ہندوستانی سکھہ کے لحاظ سے ہم اس کو پانچ ہزار روپیہ مہینہ دیتے ہیں۔ اسی طرح وہ اور بہت سے گھروں میں کام کرتی ہے۔ ہر بار جب اسے چک دینا ہوتا ہے تو مجھے اس کا نام پوچھنا پڑتا ہے کیوں کہ وہ بار بار شوہر بدلتی ہے ، اس لئے اس کا نام بھی بدلتا رہتا ہے۔ اس وقت اس کا چھٹا شوہر ہے۔ مسنر رینو کا نے کہا کہ میں نے اس سے اس کے پانچویں شوہر کے بارے میں پوچھا۔ اس نے کہا کہ وہ بہت اچھا تھا۔ میں نے جس جس پہلو سے سوال کیا ہر پہلو سے وہ اس کو اچھا بتاتی چلی گئی۔ میں نے کہا کہ جب وہ ہر لحاظ سے ٹھیک تھا تو تم نے اس کو کیوں چھوڑ دیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader