Urdu book · اسفارِ ہند

بمبئی کا سفر

Urdu book, p. 233

By Maulana Wahiduddin Khan

اس نے جواب دیا: چھ سال اس کے ساتھ رہتے رہتے میں اکتا گئی تھی، اس لئے میں نے اس کو چھوڑ کر ایک اور شوہر کر لیا۔ دوپہر کو دو گھنٹہ کا وقفہ دیا گیا۔ جلسہ گاہ سے نکل کر گاڑی کے ذریعہ ڈائننگ ہال پہنچا۔ وہاں سب کے ساتھ کھانا کھایا۔ اس کے بعد گاڑی ہی کے ذریعہ اپنے کمرہ میں آیا۔ میں نے ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے چھوٹے فاصلوں پر پیدل چلنا میرے لئے ایک محبوب مشغلہ ہے۔ مگر آج عذر کی بنا پر اپنی طبیعت کے خلاف مجھے گاڑی پر بیٹھ کر یہاں سے وہاں جانا پڑتا ہے۔ میرا خیال تھا کہ میں اپنے کمرہ میں ایک گھنٹہ (ساڑھے تین بجے تک) آرام کر سکوں گا۔ مگر ابھی چند منٹ گزرے تھے کہ دروازہ پر دستک ہوئی۔ یہ مختلف ہندی اور انگریزی اخبارات کے مقامی نمائندے تھے جو انٹرویو لینا چاہتے تھے۔ ان پترا کاروں کے نام یہ ہیں: ایشور سنگھ چوہان (لوک سوراج)، وی وی متر (فری پریس)، شاہد مرزا (فری لانسر)، ہیمنت شرما (چوتھا سنسار)، سرو شوندی (دیو این آئی)، ان حضرات کے ساتھ مشترک انٹرویو ہوا۔ وہ لوگ سوال کرتے رہے اور میں ان کا جواب دیتا رہا۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ حکومتوں کے بدلنے سے ملک میں ترقی کا دور نہیں آسکتا۔ ترقی کا دور لانے کے لئے ہمیں لوگوں کی سوچ اور ان کے مزاج کو بدلنا ہوگا۔ ہم اسی مشن کے لئے پچھلے ۲۵ سال سے کام کر رہے ہیں۔ ساڑھے تین بجے دوسرا اجلاس شروع ہوا۔ مسٹر راؤ نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ آج جو سام پر دائکتادیش میں پھیل رہی ہے وہ ایک زہر ہے۔ اس پر مرہم لگانا کافی نہیں۔ اس کے لئے کچھ اور کرنا ہوگا۔ ان سب کے پیچھے یہ کارن ہے کہ اگر دیش میں روٹی اور روزگار کا انتظام کیا گیا ہوتا تو ایسی پارٹیوں کو عوام میں کبھی مقبولیت نہ ملتی۔ سام پر دائکتاتپ تک ختم نہیں ہوگی جب تک لوگوں کی معاشی حالت کو درست نہ کیا جائے۔ شرن بھائی نے کہا کہ ۱۹۹۰ میں کچھ لوگ صرف بابری مسجد پر چڑھ گئے تھے اور اس پر بھگوا جھنڈا گا دیا تھا تو دیش میں بہت سے دنگے ہوئے تھے۔ مگر ۶ دسمبر ۱۹۹۳ کو بابری مسجد

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page