Urdu book · اسفارِ ہند

بمبئی کا سفر

Urdu book, p. 234

By Maulana Wahiduddin Khan

توڑ ڈالی گئی مگر اس کے بعد بہت کم دنگا ہوا۔ اس میں مجھے ایک اچھی علامت دکھائی دیتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا دیش برے سے اچھے کی طرف جا رہا ہے نہ کہ برے سے زیادہ برے کی طرف۔ پر بھاش جوشی نے اپنی تقریر میں کہا کہ سمواد کے لئے پل بنانے کی ضرورت ہے تاکہ دوری ہٹے_ آج سب سے زیادہ ضروری ڈائیلاگ شروع کرنا ہے۔ اس کا کاریہ کرم بنانا چاہئے۔ جس اور نگ زیب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے ہندوؤں پر جزیہ لگایا، اسی اور نگ زیب نے جس مندر کو دیکھا کہ اس کی کوئی ضرورت ہے تو اس کو پورا کیا۔ عرصہ تک سکھ اپنے آپ کو ہندو سے الگ نہیں سمجھتے تھے۔ ان دو سماجوں کے بیچ میں جتنانین دین تھا اتنا کسی میں نہیں تھا۔ مگر آج ایسا نہیں_ ایک ضروری کام ہمیں یہ کرنا ہے کہ مسلمان اور دوسرے اقلیتی سماج جو ہندو سماج سے الگ ہو کر برت د سماج بن گئے ہیں ان کو کھولنے کا کام کیا جائے۔ ایک نوجوان جے پال نے کہا کہ ہمارا ایک ہی دھر م ہونا چاہئے اور وہ ہے انسانیت کا دھرم۔ ہمیں انسانیت کے دھرم کو پھیلانے کے لئے ایک نئی پارٹی بنانا ہے۔ مسٹر رویندر نے کہا کہ میرے بھوشیۂ کا بھارت کیا ہوگا۔ میں مستقبل کے ہندوستان میں ہندو مسلم کا شبد نہیں سننا چاہتا ہوں۔ ہمیں سچا انسان بن کر رہنا ہے۔ میں یہاں ساپر داکتانہیں دیکھنا نہیں چاہونگا۔ اس قسم کی تقریبیں ۵ بجے شام تک چلتی رہیں۔ اس کے بعد پرارتھنا کا پرو گرام ہوا کچھ خواتین نے مل کر روحانی اور انسانی انداز کے گیت گائے۔ پروفیسر میتیش سنگھ نے کہا کہ دھر م کے نام پر اپیل بہت ہو چکی۔ اب ہمیں کچھ آگے بڑھنا چاہئے۔ دھارمک اپیل سے کام نہیں بنا، اس لئے اب ایسی چیز کو تلاش کرنا ہے جس میں لوگوں کے لئے اپیل ہو_ ہمیں شاستر آر تھے کا طریقہ چھوڑ کر سمواد کا طریقہ اپنانا چاہئے_ پنجاب میں ہند واور سکھ کے درمیان سنسکرت الگاؤ نہیں تھا، تب بھی دونوں کے بیچ میں جھگڑا پیدا ہوا۔ اس میں ہمارے لئے بہت بڑا سبق ہے۔ پروفیسر سروچ کمار نے کہا کہ کہا جاتا ہے کہ مسلمانوں کا تستنی کرن ہوا ہے۔ ان کا اپیزمنٹ ہوا ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ اگر مسلمانوں کا تستنی کرن ہوا ہے تو مسلمان کیوں ہندوؤں سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page