بمبئی کا سفر
Urdu book, p. 235
By Maulana Wahiduddin Khan
نہ زیادہ خوش حال نہیں۔ مسلمان کیوں سروسوں میں زیادہ نہیں۔ مسلمان کے گھر ہندوؤں کے گھر سے اچھے کیوں نہیں۔ اگر دستی کرن ہوا ہے تو وہ کچھ مسلم لیڈروں کا ہوا ہے نہ کہ عوام کا۔ جسٹس چندر شیکھر دھرما دھیکاری نے کہا کہ میں گاندھی جی کے ساتھ دس سال رہا ہوں۔ ان کے آشرم میں ہریجن اور برہمن ایک طرح سے رہتے تھے۔ آج جو لگایا ہے اس میں ہمیں لپسارول ادا کرنا ہوگا۔ کسی نے صحیح کہا ہے کہ اچھوں کا چپ رہنا برہروں کے بولنے سے زیادہ خطر ناک ہے۔ یہ پڑوس بنا سمبندھ (neighbourhood without relationship) کا زمانہ ہے۔ ہمارے سماج میں سجن لوگ بہت ہیں مگر وہ اپنے اپنے میں جیتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ سجن لوگ ایک دوسرے سے صرف شمشان بھومی ہی میں ملتے ہیں۔ اندور میں مسلمان کافی تعداد میں ہیں۔ کچھ لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے کہا کہ آپ اکثر لکھتے ہیں کہ ہمارے یہاں ذہنی بیداری کا کام نہیں ہوا ہے۔ یہ آپ کیسے کہتے ہیں جب کہ پچھلے سو سال سے ہمارے یہاں ذہنی بیداری کا کام ہوتا رہا ہے۔ اس کے بعد انھوں نے کچھ مثالیں دیں۔ میں نے کہا کہ یہ سب جذباتی اپیل کی مثالیں ہیں نہ کہ ذہنی بیداری کی مثالیں۔ اس سلسلہ میں اقبال اور ابوالکلام آزاد کا نام بہت لیا جاتا ہے۔ مگر ان لوگوں نے جو کہا یا لکھا وہ سب کا سب جذباتی اپیل سے تعلق رکھتا تھا۔ مثلاً ابو الکلام آزاد نے ایک تقریر میں کہا کہ ستارے ڈوب گئے تو ڈوب جائیں۔ سورج روشن ہے، اس سے کریں مانگ لو اور اپنے راستہ میں بچھا دو۔ یا اقبال نے کہا: اٹھ کہ اب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے اس قسم کا کلام صرف جذباتی اپیل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ذہنی بیداری کا کام اس سے بالکل مختلف ہے۔ جذباتی اپیل کا کام بلاشبہ پچھلے سو سال سے بہت بڑے پیمانہ پر ہوتا رہا ہے۔ مگر جذباتی اپیل سے کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ ایک بے شعور قوم ایک باشعور قوم کی حیثیت سے اٹھ کر کھڑی ہو جائے۔ ذہنی بیداری در اصل قوم کو باشعور بنانے کا کام ہے۔ اور وہ سنجیدہ لٹریچر کے ذریعہ ہوتا ہے نہ کہ خطابت اور شاعری اور انشا پردازی کے ذریعہ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader