بمبئی کا سفر
Urdu book, p. 236
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک مسلم نوجوان سے میں نے کہا کہ دانشور کا کام یہ ہے کہ وہ لوگوں کے اندر صحیح سوچ پیدا کرے، وہ لوگوں کو صحیح رہنمائی دے۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلم دانشوروں نے صرف مسلمانوں کو بہکانے کے لئے اپنے علم کا استعمال کیا ہے۔ وہ مسلمانوں کو جھوٹے شہد جہاں میں مبتلا کئے ہوئے ہیں۔ ایک مسلم دانشور کا انگریزی مضمون میں نے پڑھا۔ ان کے پرجوش الفاظ کو اس کی سرخی بنایا گیا تھا کہ اقلیتوں کو دئے ہوئے دستوری حقوق پر کوئی بندش نہیں لگا سکتا : None can curtail minorities’ rights bestowed by constitution. اسی طرح میں نے ایک مسلم نوجوان کا خط آر ایس ایس کے جواب میں پڑھا۔ آر ایس ایس کے مضمون میں مسلمانوں کو ملک کے بٹوارہ کا ذمہ دار بتایا گیا تھا مسلم نوجوان نے جذباتی انداز میں لکھا تھا ؛ میں ۱۹۴۷ء کے بعد پیدا ہوا۔ میں نہیں جانت کہ ملک کو کس نے تقسیم کرایا۔ میں نے کہا کہ اس طرح کی باتیں لفظی بہرم سے زیادہ کوئی حقیقت نہیں رکھتیں مسلم دانشور اس قسم کے الفاظ پچھلے پچاس سال سے بول رہے ہیں اور ان الفاظ کی گونج میں مسلمانوں کے تمام معاملات بگڑتے چلے جارہے ہیں۔ زندگی میں اصل اہمیت حقائق کی ہوتی ہے۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ حقائق کو اپنے موافق بنائیں۔ لفظان کے کسی کام نہ آیا ہے اور نہ آئندہ آنے والا ہے۔ یہاں کچھ ایسے نوجوان بھی آئے تھے جن کا تعلق آر ایس ایس سے تھا۔ ایک صاحب سے بات ہوئی، گفت گو کے دوران انھوں نے کہا کہ آر ایس ایس کے نظریہ کے مطابق مسلمان کا مذہب الگ ہو سکتا ہے مگر کلچر کے اعتبار سے مسلمان بھی ہندو ہیں، وہ ہندو ہی کا ایک حصہ ہیں: The RSS ideology holds the Muslims as part of Hindus. میں نے کہا کہ محض آپ کے کہنے کی وجہ سے تو ایسا نہیں ہو سکتا۔ یہاں کے پرانے مذہبی شاستروں میں کہیں ہندو کا لفظ موجود نہیں۔ بلکہ کانسٹ ٹیوشن یہاں کے باشندوں کو انڈین کہتا ہے، وہ ہندو نہیں کہتا۔ پھر ان دو کے بعد آپ کے پاس کون سی تیسری سند ہے جس کی بناپر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader