بمبئی کا سفر
Urdu book, p. 237
By Maulana Wahiduddin Khan
آپ ایسا کہہ رہے ہیں۔ اگر صرف کہنے سے ایسا ہوتا ہو تو ہم کہتے ہیں کہ یہاں کے تمام لوگ مسلمان ہیں۔ آر ایس ایس کوئی دلیش کی ٹھیکیدار نہیں ہے۔ اگر آپ کو خود سے کچھ کہنے کا حق ہے تو ہمیں بھی حق ہے کہ ہم خود سے ایک نظریہ بنائیں اور اس کو سب کے اوپر تھوپنا شروع کر دیں۔ ہندوستانی اخبارات پر گفتگو کے دوران ایک صاحب سے میں نے کہا کہ آرگن لزر ہندوؤں کا ریڈئنس ہے اور ریڈینس مسلمانوں کا آرگن لزر ۔ میرے نزدیک دونوں ہی زرد صحافت کا نمونہ ہیں۔ انڈیا کے اردو اخبارات اور ہندی اخبارات زیادہ تر اسی سطحی اصول صحافت پر چلائے جا رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یورپ اور امریکہ میں بھی زرد صحافت کی کمی نہیں۔ پھر آپ انڈیا ہی کی زرد صحافت کو اتنا زیادہ تنقید کیوں کرتے ہیں۔ میں نے کہا کہ دونوں میں ایک بنیادی فرق ہے۔ یورپ اور امریکہ کی زرد صحافت محض تجارتی نوعیت رکھتی ہے۔ جب کہ یہاں یہ ہے کہ ہندوؤں کے اس قسم کے اخبارات مسلمانوں کے خلاف بری باتوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر چھاپتے ہیں اور مسلمانوں کے اس قسم کے اخبارات ہندوؤں کے خلاف بری باتوں کو ڈھونڈ کر نمایاں کرتے ہیں۔ مغرب کی زرد صحافت زیادہ سے زیادہ ایک تماشائی صحافت ہے۔ جب کہ انڈیا کی زرد صحافت فرقہ وارانہ نفرت پیدا کرنے میں مصروف ہے۔ مغرب کی زرد صحافت اگر ایک تفریح ہے تو انڈیا کی زرد صحافت ایک زہر۔ 19 مئی 1993 کو میرا ہرنیا کا آپریشن ہوا تھا۔ 28 مئی کو میں نے اندرون کا سفر کیا۔ یہ ڈاکٹر کے مشورہ کے خلاف تھا۔ کیوں کہ میں نے ان سے سفر کے لئے پوچھا تو انھوں نے سفر کرنے سے منع کر دیا تھا۔ ابھی تک کافی کمزوری اور تکلیف بھی تھی۔ اس لئے میں خلاف عادت ہر معاملہ میں بہت زیادہ احتیاط کرتا رہا۔ اجتماع گاہ میں کسی پر بیٹھتا تھا، جب کہ دوسرے لوگ فرش پر بیٹھے تھے۔ اجتماع کے مقام سے قیام گاہ اور طعام گاہ وغیرہ کے فاصلے زیادہ نہ تھے۔ مگر میں ہر بار گاڑی سے آتا جاتا رہا۔ کئی بار ایسا ہوا کہ میں نے کسی اخباری رپورٹر سے لیٹ کر بات کی، وغیرہ۔ مگر اس آپریشن نے مجھے اپنی بات کہنے کے لئے ایک بہت اچھا موضوع بھی دے دیا۔ ایک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader