بمبئی کا سفر
Urdu book, p. 238
By Maulana Wahiduddin Khan
مجلس میں میں نے کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ ہرنیا کیا ہے اور اس کے آپریشن کا مطلب کیا ہے۔ ہر نیا (hernia) ایک لاطینی لفظ ہے جس کا مطلب اپنی حد سے باہر نکل آنا (protrusion) ہے۔ عام طور پر ہرنیا آنتوں کے باہر نکل آنے کے لئے بولا جاتا ہے۔ آنتوں کے باہر ایک جھلی ہوتی ہے جو اس کو ایک حد میں روکے رکھتی ہے۔ کبھی یہ جھلی پھٹ جاتی ہے یا ڈھیلی ہو جاتی ہے۔ اس کی وجہ سے آنت کا کوئی حصہ باہر نکل آتا ہے۔ اس وقت سرجن یہ کرتا ہے کہ آپریشن کر کے جھلی کو درست کرتا ہے اور آنت کو اس کی اصل جگہ لوٹا دیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہرنیا کا آپریشن نام ہے حالتِ فطری کے بگڑ جانے کے بعد عضو کو دوبارہ اس کی حالتِ فطری پر قائم کر دینے کا۔ میں نے کہا کہ یہی معاملہ سماج سدھار کا بھی ہے۔ جب بھی کسی سماج میں بگاڑ آتا ہے تو اسی لئے آتا ہے کہ اس کے افراد فطرت کی علامت کی ہوئی حالت سے ہٹ جاتے ہیں۔ اب ریفارمر کا کام یہ ہے کہ وہ لوگوں کی سوچ کو بدلے تاکہ وہ دوبارہ اپنی حالتِ فطری کی طرف واپس ہو جائیں۔ مثلاً ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان تعلق کو فطرت نے الفت، یگانگت اور احترام کی بنیاد پر قائم کیا ہے۔ مگر آج ہمارے سماج میں بعض اسباب سے ایسا ہوا ہے کہ نفرت، دوری اور بے قدری نے اس کی جگہ لے لی ہے۔ اب کرنے کا کام یہ ہے کہ لوگوں کو دوبارہ ان کی اصل حالتِ فطری کی طرف لوٹا دیا جائے۔ آج ہر آدمی غیر معتدل جذبات کے تحت دوسرے سے معاملہ کر رہا ہے۔ اب اگر اس کو اعتدال کی طرف واپس کر دیا جائے تو وہ اپنی فطرت کے زیر اثر عمل کرنے لگے گا، اور اس کے بعد سماجی تعلقات اپنے آپ انسانی قدروں کی بنیاد پر قائم ہو جائیں گے۔ ایک مسلمان بزرگ نے کہا کہ آپ مسلمانوں کو تو نصیحت کرتے ہیں مگر ہندوؤں کا فرقہ پرست جماعتوں اور انتہا پسند تنظیموں کو کیوں نہیں کرتے۔ ایسا کیوں۔ میں نے کہا کہ آپ یوں سوچیے کہ مجھ ایک شخص کے سوا مسلمانوں کے تمام لکھنے اور بولنے والے لوگ وہی کام کر رہے ہیں جو آپ چاہتے ہیں۔ ہر آدمی بلا استثناء پچھلی نصف صدی سے ان ہندوؤں کی مذمت کرنے میں مصروف ہے۔ یہی نہیں بلکہ خود ہندوؤں کے ہزاروں لیڈر اور دانشور بھی یہ کام مسلسل طور پر کر رہے ہیں۔ اس سلسلہ میں میں صرف ایک مثال دینا چاہوں گا جو اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader