Urdu book · اسفارِ ہند

بمبئی کا سفر

Urdu book, p. 239

By Maulana Wahiduddin Khan

نوعیت کی آخری مثال ہے۔ مہاتما گاندھی جو مسلمہ طور پر انڈیا کے نمبر ایک لیڈر تھے۔ انھوں نے بار بار نہایت کھل کر ہندو انتہا پسندوں کی مذمت کی۔ اپنی موت سے صرف ایک ہفتہ پہلے انھوں نے ایسے لوگوں کی بابت یہ شدید ترین الفاظ کہے تھے: میں سمجھتا ہوں کہ اس سے زیادہ سخت الفاظ میں ہندو انتہا پسندوں کی مذمت نہیں کی جاسکتی۔ اس کے باوجود ہندو انتہا پسندی مسلسل بڑھتی جارہی ہے۔ گویا کہ اب مسئلہ مذمت کا نہیں ہے بلکہ مذمت کے باوجود نتیجہ نہ نکلنے کا ہے۔ اگر آپ "مذمت برائے مذمت" کے قائل نہ ہوں بلکہ "مذمت برائے نتیجہ" کے قائل ہوں تو اس معاملے میں آپ کو موجودہ طریقہ کار کو بدلنے پر غور کرنا چاہئے نہ کہ موجودہ طریقہ کار کو مزید جاری رکھنے پر۔ بمبئی کے ایک مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے "ہندو تعصب" کا ذکر کیا۔ میں نے مثال پوچھی تو انھوں نے کہا کہ دیکھئے، بمبئی میں جمعہ کی نماز میں کچھ مسجدوں میں نمازی زیادہ ہو جاتے ہیں تو وہ سڑک پر صف بنا لیتے ہیں۔ اس کو ہندو برداشت نہیں کر سکتے۔ وہ ھم کو وارننگ دے رہے ہیں کہ سڑک پر نماز پڑھنا بند کر دو، ورنہ ... میں نے کہا کہ قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ اختلاف اور دشمنی کے وقت بھی انصاف سے کام لو۔ اس لئے اس معاملے میں آپ لوگوں کو انصاف والی بات کہنا چاہئے۔ پھر میں نے کہا کہ اسی ملک میں پچاس سال سے یہ ہورہا ہے کہ ٹرین میں سفر کرتے ہوئے مسلمان جب نماز پڑھنا چاہتے ہیں تو ہندو ومسافر کھڑے ہو کر جگہ خالی کر دیتے ہیں تاکہ مسلمان سہولت کے ساتھ نماز پڑھ سکیں۔ اگر آپ کو اس میں شبہ ہو تو تبلیغی جماعت کے کسی بھی آدمی سے پوچھ لیجئے۔ اب سوچیئے کہ وہی ہندو جو روزانہ ٹرین میں نماز پڑھنے کے لئے جگہ خالی کر دیتا ہے وہی سڑک پر نماز نہ پڑھنے کو کیوں نا پسند کر رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ٹرین میں آپ کو نماز کی جگہ دینے سے اس کا سفر بھنگ نہیں ہوتا۔ جب کہ سڑک پر آپ کی نماز سے اس کا سفر بھنگ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page