Urdu book · اسفارِ ہند

پونہ کا سفر

Urdu book, p. 24

By Maulana Wahiduddin Khan

انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے سنا ہے کہ جو شخص کسی قوم میں جائے تو وہ ان کی امامت نہ کرے بلکہ خود ان میں کا کوئی شخص ان کی امامت کرے (ممن زار قوما فلا يؤمهم وليؤمهم رجل منهم) حدیث نمبر ۵۹۶ انڈیا میں پارسیوں کی تعداد تقریباً ایک لاکھ ہے۔ ان میں سے زیادہ بڑی تعداد ممبئی میں ہے۔ اس کے بعد ان کی زیادہ تعداد پونہ میں ہے۔ پارسیوں کا اصول ہے کہ وہ مختلف طریقوں سے اپنے بچوں کے اندر خود اعتمادی کا مزاج پیدا کرتے ہیں۔ ایک پارسی نے اپنے چھوٹے بچہ کو گھر کے چبوترے پر کھڑا کیا۔ خود چبوترہ کے نیچے کسی قدر فاصلہ پر کھڑا ہوگیا۔ اس کے بعد ہاتھ بڑھا کر بچہ سے کہا بیٹے میری گود میں آجاؤ۔ بچہ بڑھتا مگر نیچے گرنے کے ڈر سے چبوترہ پر ٹھہر جاتا۔ اسی طرح کئی بار کرنے کے بعد باپ اور قریب آگیا اور بچہ کو گود میں لینے کے لئے ہاتھ بڑھایا۔ بچہ اپنے باپ کو قریب دیکھ کر تیزی سے اس کی طرف لپکا۔ مگر جیسے ہی بچہ آگے بڑھا، باپ پیچھے ہٹ گیا۔ بچہ چبوترہ کے نیچے منھ کے بل گر گیا، اب باپ نے جلدی سے اس کو اٹھا لیا اور کہا: بیٹے دیکھو باپ پر بھی بھروسہ نہ کرنا۔ پونہ میں ممبئی کے ہفتہ وار السٹریٹڈ ویکلی آف انڈیا (۲۱ ۔ ۸ نومبر ۱۹۹۱) کا شمارہ دیکھا۔ اس کے آخری صفحہ پر آشاکرشنا کمار کا مضمون نمایاں طور پر شائع کیا گیا تھا۔ اس مضمون میں فرقہ پرست ہندووں کی ایک بات کا جواب تھا۔ وہ یہ کہ مسلمانوں کی آبادی ہندوستان میں تیزی سے بڑھ رہی ہے اور مستقبل میں ان کی تعداد ہندووں سے زیادہ ہو جائے گی۔ مضمون میں اس فرضی پروپگنڈے کا نہایت طاقت ور جواب دیا گیا تھا۔ ایڈیٹر نے مضمون کے آغاز میں اس کے بارہ میں یہ الفاظ لکھے تھے: یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہندوؤں کا پڑھا لکھا طبقہ اپنے سائنٹفک مزاج کی بنا پر مسلمانوں کا زبردست حامی ہے۔ مگر مسلمانوں کے نااہل لیڈروں نے اس راز کو نہیں سمجھا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page