Urdu book · اسفارِ ہند

بمبئی کا سفر

Urdu book, p. 240

By Maulana Wahiduddin Khan

ہوتا ہے۔ سڑک سے سفر کرنے والے ہزاروں مسافروں کو سڑک کے ادھر اور اُدھر اس وقت تک رکے رہنا پڑتا ہے جب تک آپ نماز ختم کرکے سڑک کو خالی نہ کردیں۔ اس لئے آپ یوں کہئے کہ جو نماز ہندو کی زندگی میں خلل نہ ڈالے اس کا وہ سواگت کرتا ہے، البتہ وہ اس نماز کا مخالف ہے جس سے اس کی زندگی میں خلل واقع ہوتا ہو۔ مدھپیہ پر دیش ہائی کورٹ کی اندور بینچ میں حال ہی میں ایک رٹ پٹیشن داخل کیا گیا ہے اس کو داخل کرنے والے اندور کے ستيه پال آنند ہیں اور وہ بھارت سرکار کے خلاف ہے۔ جسٹس آشارام تیواری نے بھارت سرکار کے نام وجہ بتاؤ نوٹس جاری کر دیا ہے اور اس کی سماعت کی تاریخ ۲۲ جون ۱۹۹۳ مقرر کی ہے۔ اس رٹ پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ بھارت سرکار نے اس سال حج کے مسافروں کے لئے چالیس کروڑ روپے کے بقذر زر مبادلہ دینا منظور کیا ہے۔ چونکہ حج ایک خالص مذہبی کام ہے، اس لئے اس میں سرکاری تعاون نہیں دیا جا سکتا جو کہ ایک سیکولر اسٹیٹ ہے۔ اس قصہ کو بتاتے ہوئے ایک صاحب نے کہا کہ دیکھئے ہندوؤں نے ایک نیا شوشہ چھوڑا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ نہ کہئے کہ ہندوؤں نے شوشہ چھوڑا ہے، بلکہ یہ کہئے کہ ایک آدمی جس کا نام ستیہ پال آنند ہے، اس نے ایک نیا شوشہ چھوڑا ہے۔ اس قسم کے شوشے کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔ آپ دیکھیں گے کہ یہ پٹیشن خارج ہو جائے گا اور حاجیوں کے قافلے بدستور مزید اضافہ کے ساتھ حج کے لئے جاتے رہیں گے۔ پھر جو کیس اتنا زیادہ کمزور ہو اس پر اپنا ذہن الجھانے کی کیا ضرورت۔ شام کو سیمین کے کئی ذمہ دار میرے کمرہ میں آئے۔ ان لوگوں کا خیال ہے کہ اس سیمین میں کوئی ایسا پروگرام بنایا جائے جس کو آئندہ سال بھر تک برابر چلایا جا سکے۔ ہر ایک اپنی اپنی بات کہتا رہا۔ میں زیادہ تر ان کی باتیں سنتا رہا۔ ڈاکٹر چاولہ نے کہا کہ آج کی تقریروں میں زیادہ تر ہندو۔ مسلم تعلقات کا چرچا رہا۔ ہم کو دیش کے دوسرے گروپوں کو بھی لینا ہوگا۔ اس سلسلہ میں انھوں نے دلت کمیونٹی کے کئی قصے بتائے۔ انھوں نے کہا کہ دہلی میں ایک میٹنگ تھی۔ اس میں زیادہ تر دلت لوگ شریک تھے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page