بمبئی کا سفر
Urdu book, p. 241
By Maulana Wahiduddin Khan
بلراج مدھوک بھی اس میں موجود تھے۔ مسٹر مدھوک نے ڈاکٹر امبیڈکر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ امبیڈکر تو ایک برہمن تھے۔ اتنا بڑا دوران موجودہ زمانہ میں کوئی اور پیدا نہیں ہوا۔ یہ سنتے ہی تمام دلت بگڑ گئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تو آپ نے بابا امبیڈ کر کو بہت بڑی گالی دیدی ہم کو یہ بالکل پسند نہیں کہ بابا امبیڈکر کو برہمن کہا جائے۔ ۳۱ مئی کی صبح کو میں کستور با گرام کے گیسٹ ہاؤس کے کمرہ میں لیٹا ہوا تھا۔ کھڑکی کھلی ہوئی تھی ۔ باہر دیکھا تو آسمان پر بادلوں کے ٹکڑے چلتے ہوئے نظر آئے۔ مجھے یاد آیا کہ عباسی سلطنت کے زمانہ میں خلیفہ ہارون الرشید بغداد میں اپنے محل کے اوپر تھا۔ اس کو بھی اسی طرح بادل کے ٹکڑے آسمان میں چلتے ہوئے دکھائی دئے۔ اس کو دیکھ کر اس نے کہا : جہاں چاہے جا کر برس تیر اخراج میرے ہی پاس آئے گا۔ مسلمان اپنے آپ کو اسی تاریخی عظمت کے ساتھ منسوب کرتے ہیں جس کا ایک جزو ہارون الرشید تھا۔ مگر ماضی اور حال میں کتنا زیادہ فرق ہے۔ پہلے ہر جگہ کا خراج مسلم خزانہ میں آتا تھا۔ حتی کہ دنیا کے علوم ، دنیا کی قوتیں ، دنیا کی سرگرمیاں ، سب اسلام کی حامی و مددگار بن گئی تھیں ۔ آج معاملہ بالکل برعکس ہے۔ آج مسلم دنیا کی تمام دولت دوسری قوموں کے پاس چلی جارہی ہے تمام عالمی ذرائع مسلم قوموں کے خلاف سرگرم عمل ہیں۔ یہ سب اس کے باوجود ہے کہ مسلمانوں میں ایسی ایسی شخصیتیں ہیں جن کے القاب کئی سطروں میں لکھے جاتے ہیں۔ ایسی جماعتیں ہیں جن کا کہنا ہے کہ انھوں نے عالم میں اسلام کی ہوائیں چلادی ہیں۔ ایسی تحریکیں جنہوں نے اپنے دعوے کے مطابق ساری دنیا میں نیا عہد پیدا کر دیا ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان اپنے الفاظ کے اعتبار سے چوٹی پر ہیں اور حقیقت کے اعتبار سے کہیں بھی نہیں۔ بابا آمٹے نے اپنی ایک گفت گو میں بتایا کہ ان کو ٹرک کا حادثہ ہوا۔ اس کے بعد ان کا حال یہ ہوا کہ ان کی پتنی اور ان کے بیٹے اسپتال آتے تھے اور وہ ان کو پہچان نہیں سکتے تھے۔ ڈاکٹر نے ان کا معائنہ کرنے کے بعد بتایا کہ ان کونسیان (retrograde amnesia) کا عارضہ ہوگیا ہے۔ بابا آمٹے نے کہا کہ آج ہندوستانیوں کو اسی طرح قومی نسیان (national amnesia)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader