Urdu book · اسفارِ ہند

بمبئی کا سفر

Urdu book, p. 242

By Maulana Wahiduddin Khan

کا عارضہ لاحق ہو گیا ہے۔ آج ہم اپنے قومی بڑوں کو پہچانتے نہیں۔ یہاں تک کہ گاندھی کو بھی نہیں۔ کانفرنس کے آخری دن ایک خصوصی میٹنگ میں ایک رزولیوشن کا مضمون پیش کیا گیا۔ منتخب کمیٹی کے لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ یہ ہندی زبان میں تھا۔ ایک جگہ "واٹا درن" کا لفظ آیا۔ بابا آمٹے نے کہا کہ یہ تو آر ایس ایس کی زبان ہے۔ ماحول لکھو۔ عام بول چال یہی ہے۔ لوگ کہتے ہیں ماحول کیسا ہے۔ ایک صاحب نے مسائل کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ اکثر پڑھے لکھے ہندو یہ یقین کئے ہوئے ہیں کہ مسلمانوں کا تشستی کرن کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں نے کچھ لوگوں کی غلط فہمی دور کرنے کی کوشش کی مگر آپ کس کس کو سمجھائیں گے۔ یہ تو ہندو ذہن میں وباکی طرح پھیل گیا ہے کہ کانگریس نے مسلمانوں کو اسپیشل کیونٹی بنا کر رکھا ہے تاکہ وہ انھیں ووٹ دیتے رہیں۔ ایک ہندو بھائی نے بتایا کہ فرقہ پرست ہندوؤں میں مسلمانوں کے تئیں رائے بہت زیادہ سخت ہے۔ ایک گروہ یہ کہتا ہے کہ مسلمانوں کا بھارتیہ کرن کرنا ضروری ہے۔ وہ ہندو سنسکرتی کے وسیع تر دائرہ میں ایک محمدی فرقہ بن کر رہ سکتے ہیں۔ ہم یہ مانتے ہیں کہ مسلمان ایک محمدی سامپردائے ہیں، مگر وہ ہندو ازم کا ایک حصہ ہیں جس طرح دوسرے کئی گروہ اس کا حصہ ہیں۔ مئی کی ۲۹ تاریخ ہے۔ رات کے ۱۰ بجے کا وقت ہے۔ آج کے پروگراموں سے فارغ ہو کر اور عشا کی نماز پڑھ کر میں اپنے کمرہ میں واپس آیا ہوں۔ یہاں بظاہر مجھے کسی قسم کی کوئی تکلیف نہیں۔ لوگ بار بار پوچھتے رہتے ہیں کہ کوئی کام تو نہیں، ہم آپ کی کیا سیو کر سکتے ہیں ۔ مگر میرا دل اندر سے بھرا ہوا ہے۔ مسلمانوں کے احوال کو سوچتے ہوئے میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔ میں نے سوچا کہ اس ملک میں اور اسی طرح ساری دنیا میں مسلمانوں کو جو سنگین مسائل درپیش ہیں اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ انھوں نے داعی کی حیثیت سے اپنی ذمہ داری کو پورا نہیں کیا۔ رسول اور اصحاب رسول کا طریقہ یہ تھا کہ وہ لوگوں سے کہتے تھے کہ ایہا الناس قولوا لا الہ الا اللہ تفلحوا اس کا مطلب یہ ہے کہ انھوں نے توحید کو اپنا منشور بنایا۔ اس وقت عرب میں وہ تمام مسائل موجود تھے جو آج مسلمانوں کو درپیش ہیں۔ حتی کہ کعبہ کے اندر ۳۶۰

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page