Urdu book · اسفارِ ہند

بمبئی کا سفر

Urdu book, p. 243

By Maulana Wahiduddin Khan

بتوں کی صورت میں گویا ایک سپر بابری مسجد بھی موجود تھی۔ مگر ان میں سے کسی کو بھی اشو نہیں بنایا گیا، اشو صرف دعوت توحید کو بنایا گیا۔ موجودہ مسلمانوں نے کبھی ایسا نہیں کیا کہ وہ توحید کو اپنا اشو بنائیں۔ ہندوستان میں انھوں نے کبھی تقسیم کو اشو بنایا، کبھی اردو کو، کبھی مسلم یونیورسٹی کو، کبھی ملی تشخص کو، کبھی مسلم پرسنل لا کو، کبھی بابری مسجد کو۔ رسول اور اصحاب رسول کے نمونہ کے مطابق، یہ سب کے سب نان اشو ہیں۔ مگر موجودہ زمانہ میں پوری کی پوری ملت اسی قسم کی چیزوں کی طرف دوڑتی رہی، وہ توحید کو اپنا اشو نہ بنا سکی۔ ۳۰ مئی کی صبح کو میں کستور باگر اؤنڈ کے گیسٹ ہاؤس میں اپنے کمرے میں تھا۔ کھڑکی کے باہر صبح کا سہانا سماں آنکھوں کے سامنے تھا۔ میں خیالات کے سمندر میں کھویا ہوا تھا۔ اتنے میں ایک صاحب کمرے میں داخل ہوئے۔ انھوں نے بتایا کہ بابا آمٹے آپ سے ملنے کے لئے آئے ہیں۔ باہر نکلا تو ایک آدمی چھتری لئے ہوئے کھڑا تھا۔ سانولا رنگ، جسم کے اوپر کے حصہ میں سفید مارکین کی سلی ہوئی بغیر آستین کی معمولی سی بنیائن، نیچے ایک سفید کپڑے کا جانگھیا، ہاتھ میں ایک چھتری، یہ تھے بابا آمٹے جو سراپا سادگی اور جفاکشی کا نمونہ ہیں۔ مجھ کو دیکھتے ہی انھوں نے فوراً کہا : آپ سے ملنے کی بہت اچھا تھی۔ آج آپ کو یہاں دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔ یہ کہہ کر انھوں نے گفتگو شروع کر دی۔ اور تقریبا آدیدیوانگی کے عالم میں مسلسل بولتے رہے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ آزادی کے بعد ہندوستان میں ہند و قوم نے صرف دو شخصیتیں پیدا کیں ایک بابا آمٹے، اور دوسرے ڈاکٹر مودی۔ بابا آمٹے کے خیالات عام لوگوں سے بہت مختلف ہیں۔ مثلاً ان کا کہنا ہے کہ ہمارے لئے تراشا کی کوئی ضرورت نہیں۔ کیوں کہ ہر شکست کی صورتحال کے اندر امکانی فتح کے اسباب بھی موجود رہتے ہیں: Every defeating situation has within it a potential victory. عمل کے بغیر آدمی کو کبھی عزّت حاصل نہیں ہوتی : There is no credibility without performance. ۳۰ مئی کو اندر ور کے سبھی اخباروں میں اس سمین کی رپورٹ شائع ہوئی۔ یہاں کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page