بمبئی کا سفر
Urdu book, p. 244
By Maulana Wahiduddin Khan
ہندی روزنامہ نئی دنیا (۳۰ مئی) نے اپنی رپورٹ کے ذیل میں جو کچھ لکھا اس کا ایک پیراگراف اردو خط میں اس طرح ہے : "مولانا وحید الدین نے کہا کہ لوگوں کا سوچ بگڑ گیا ہے جسے بدلنا ہی وہ بہارک کا یہ کرم ہوگا ۔ آپ نے کہا کہ اخباروں میں آدمیوں کی برائیوں کا پرچار بہت ہوتا ہے جس سے ایسا لگتا ہے کہ وہ برا ہی برا ہے۔ اسے اچھے کریا کلاپ کو بھی ابھار ناچاہئے۔ ایسا کرنے سے جیون میں آستھا پیدا ہوگی ۔ اس گاندھی وادی مسلم سنت نے کہا کہ دشمن سے بھی شدید و یہار کرو۔ ایسا کرنے سے ان کا انترمن بدل جائے گا۔ آج انسانی ضمیر کا چھونا ہی سب سے ضروری ہے ۔" ۳۰ مئی کی صبح کو ساڑھے نو بجے کا اجلاس ایک گیت سے شروع ہوا۔ ایک مرد اور ایک عورت نے مل کر اس کو گایا۔ اس گیت کا ایک شعر یہ تھا : مندر مسجد کی چادر نے بانٹ لیا بھگوان کو دھرتی بانٹی ساگر بانٹا منٹ بانٹو انسان کو کنونشن کا ہر اجلاس کسی گیت سے شروع کیا جاتا تھا۔ منتظمین کے بیان کے مطابق اس کا مقصد یہ تھا کہ لوگوں کو یہ احساس ہو کہ ہم سب ایک ہیں۔ آج کے اجلاس کا موضوع تھا ؛ دھرم اور راجنیتھی کا تعلق ۔ پروفیسر مرلی دھر نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ہماری آج کی شکشا کا کوئی تعلق ہمارے سماجی حالات سے نہیں ہے۔ ہم جو اتہاس اپنے تعلیمی اداروں میں پڑھاتے ہیں وہ جوڑنے والا نہیں ہے بلکہ توڑنے والا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں مسلمانوں کو یہ بتانا تھا کہ تمہارے پوروج اگرا کبر اور بابر ہیں تو اسی طرح شیواجی اور مہارانا پرتاپ بھی تمہارے پوروج ہیں۔ اسی طرح ہندو کو یہ جانتا ہے کہ اگر شیواجی اور مہارانا پرتاپ کو وہ اپنا پورورج مانتے ہیں تو اکبر اور بابر کو بھی اپنا پورورج ماننا چاہئے۔ پروفیسر شانٹ نے کہا کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں گر و اور ششٹی کا تعلق ٹوٹ چکا ہے۔ ہمارے آج کے نوجوان کا گائیڈ صرف ایک ہے اور وہ میڈیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ ایک آنکھ کھولنے والی بات ہے کہ اس سال سب سے زیادہ بکنے والی کتاب پریم چند کا اصلاحی ناول نہیں تھا بلکہ ایک بد نام ناول وردی والا غنڈا تھا۔ یہ کتاب ایک سال (۱۹۹۲) میں ۵ لاکھ بک گئی ۔ میرے نزدیک پروگرام صرف ایک ہے۔ آپ بیس بھاشٹ دینے کے بجائے بیس نو جوان سے ملئے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader