بمبئی کا سفر
Urdu book, p. 245
By Maulana Wahiduddin Khan
اور ان کی باتوں کا سامنا کیجئے۔ ونو با بھاوے کے ایک خاص شاگرد اچاریہ بال درجے بھی اس میں شریک تھے۔ انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہم کو سائنس اور روحانیت پر پرچار کرنا ہوگا۔ دھرم اور پالٹکس نہیں۔ ونو با بھاوے جی نے تمام دھر موم کا ایسنس نکالا تھا۔ انھوں نے یہ آیت پڑھی: وتواصوابالحق وتواصوابالصبر اور کہا کہ ہم کو ایک ایسی جماعت بنانا ہے جو حق کی راہ پر چلے اور صبر سے کام لے۔ بال درجے جی نے بتایا کہ مرار جی ڈیسائی جب پرائم منسٹر ہوئے تو وہ ونو با بھاوے سے ملنے کے لئے آئے۔ ونو با بھاوے نے ان سے کہا کہ اب آپ پرائم منسٹر ہیں۔ اب آپ دیش میں شراب بند کر دیجئے۔ مرار جی ڈیسائی نے جواب دیا کہ ونو با جی، میرے ساتھی ہی شراب پیتے ہیں تو میں کیسے شراب بند کر سکتا ہوں۔ اس واقعہ کو سن کر میں نے سوچا کہ جو لوگ ایسا کرتے ہیں کہ حکومت سے بڑی بڑی امیدیں رکھتے ہیں اور اس سے مانگ کرتے رہتے ہیں ان کو شاید اس کی خبر نہیں کہ حکمرانوں کی بھی محدودیتیں (limitations) ہوتی ہیں جس طرح غیر حکمرانوں کی ہیں۔ بابو لال پانڈو جی نے بتایا کہ ڈاکٹر امبیڈ کرنے کہا تھا کہ سارے مسلمانوں میں یہ سوچ ہے کہ میں پہلے مسلمان ہوں، پھر میں ہندوستانی ہوں۔ یہ سوچ جب تک باقی ہے تب تک دیش میں شانتی آنے والی نہیں۔ اس سوچ کو ہمیں بدلنا ہوگا۔ ہمیں اپنے کو پہچانے کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی سچاہ ماننا ہوگا۔ ورنہ لڑائی بھڑائی جاری رہے گی اور دیش تباہ ہو جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ میں ہندوستانی اسلام کو محمدی سمپردائے کہتا ہوں ۔ وہ کوئی الگ مذہب نہیں ۔ وہ ہماری ہی پر میرا کا ایک حصہ ہے۔ بابولال پانڈو جی نے مزید کہا کہ مسلمان بھارت میں آئے تو ایک محمود غزنوی کو چھوڑ کر سب کے سب دینے کے لئے آئے۔ وہ یہاں سے لوٹ کر باہر لے جانے کے لئے نہیں آئے۔ انھوں نے یہاں کی دھرتی پر لال قلعہ بنایا، تاج محل بنایا۔ ڈاکٹر ہئیش نے اپنی تقریر میں کہا کہ گلزاری لال نند اجب ہوم منسٹر ہوئے تو انھوں نے اعلان کیا کہ میں ایک سال میں دیش کے بھرشٹا چار کو ختم کر دوں گا۔ لوگ اپنی شکایتیں لے کر میری کوٹھی پر آئیں ۔ مگر اس کا انجام کیا ہوا ، ایک روز ان کی کوٹھی پر آدمیوں کی لمبی لائن لگی ہوئی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader