Urdu book · اسفارِ ہند

بمبئی کا سفر

Urdu book, p. 246

By Maulana Wahiduddin Khan

تھی۔ پیچھے کا ایک آدمی اپنی لائن چھوڑ کر آگے پہنچا۔ آگے کی لائن میں جو آدمی اپنی عرضی لئے ہوئے کھڑا تھا اس سے پوچھا کہ تمہاری شکایت کیا ہے اس نے کہا کہ مالک مکان مجھے بہت پریشان کرتا ہے۔ پیچھے والے نے کہا کہ تمہاری شکایت بہت چھوٹی ہے۔ مجھ کو ٹیکس افسر پریشان کر رہا ہے۔ تم یہ سو روپے کا نوٹ لو اور پیچھے جا کر میری جگہ پر کھڑے ہو جاؤ۔ ڈاکٹر ہشیش نے اس واقعہ کو بیان کرنے کے بعد کہا کہ اس طرح بھرشٹا چار ختم نہیں ہو سکتا تھا اور نہ وہ ختم ہوا۔ ایک سردار جی نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اس دیش میں بے روزگاری اور جہالت نے ایک نیا کرمنل کلاس پیدا کر دیا ہے۔ یہ دلت نوجوان ہیں۔ آپ ایک نوجوان کو ایک بوتل شراب اور سور وپیہ کا ایک نوٹ دیجئے اور پھر جو چاہے کرا لیجئے ۔ ۱۹۸۴ میں دہلی میں سکھوں کے خلاف جو دنگا ہوا اس میں اسی تدبیر کو استعمال کیا گیا تھا۔ اسی طرح ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کے بعد کانپور میں مسلمانوں کے خلاف جو دنگا ہوا اس میں بھی یہی تدبیر کام میں لائی گئی۔ ایک صاحب نے کہا کہ اپنے تعلیمی اداروں میں جب ہم ہندوستان کی تاریخ پڑھاتے ہیں تو، ہم یہ کہتے ہیں کہ بھارت میں ڈچ آئے، پر نگیز آئے، فرینچ آئے، برٹش آئے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ عیسائی آئے۔ حالاں کہ وہ سب کے سب عیسائی تھے۔ مگر مسلمانوں کے تذکرہ کے سلسلہ میں ہماری زبان بدل جاتی ہے۔ اب ہم کہتے ہیں بھارت میں مسلمان آئے۔ حالاں کہ یہاں بھی نہیں کہنا چاہئے کہ ترک آئے، مغل آئے، افغان آئے، پٹھان آئے۔ اگر مسلمانوں کی آمد کو اس طرح بیان کیا گیا ہوتا تو مسلمانوں کے خلاف کوئی نفرت نہ ہوتی جس طرح وہ یورپی قوموں کے خلاف نہیں ہے۔ اندور کے سٹین میں ایک ہند و تعلیم یافتہ نے ڈاکٹر نائر کا قصہ بتایا۔ وہ تبا کو نوشی کے خلاف مہم چلا رہے تھے۔ اس سلسلہ میں وہ شنکر اچاریہ سے ملے اور ان سے تبا کو نوشی کے نقصانات بتاتے ہوئے کہا کہ آپ اس کے خلاف بیان دیں تاکہ لوگ اُس سے بچ سکیں۔ مقرر کی روایت کے مطابق شنکر اچاریہ نے جواب دیا کہ میں ایسا بیان کس طرح دے سکتا ہوں کیوں کہ ہماری دھرم گرنتیوں میں تو یہ بات لکھی ہوئی نہیں ملتی۔ ایک صاحب نے اپنی تقریر میں عوام کی تربیت پر زور دیا۔ اس سلسلہ میں انھوں نے بتایا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page