Urdu book · اسفارِ ہند

بمبئی کا سفر

Urdu book, p. 247

By Maulana Wahiduddin Khan

کہ مہاتما گاندھی نے کہا تھا کہ لوگ تنتر میں عوام ہی ماسٹر ہوتے ہیں۔ عوام بے شعور ہوں تو کوئی کام درست نہیں ہو سکتا۔ آپ لوگ اپنے ماسٹروں کو ایجوکیٹ کیجئے: Educate your masters. پروفیسر ہہیش نے کہا کہ اب تو لوگ اتنے بے حس (insensitive) ہو گئے ہیں کہ اب تو ہمیں لوگوں کے اوپر غصہ بھی نہیں آتا، خوشی بھی نہیں ہوتی۔ ایسے سماج میں ہم کو جینا ہے۔ جسٹس چندر رشیکہر نے کہا کہ اب تو لیڈرس سب ڈیلر ہو گئے ہیں۔ پالولر مارکیٹ میں ہر ایک اپنی قیمت لگانے کو دوڑ رہا ہے۔ اس سمتیلن میں ملک کے مختلف حصوں کے لوگ آئے تھے۔ گویا ایک چھت کے نیچے پورا ہندوستان جمع تھا۔ اس طرح یہاں ہر طبقہ اور ہر گروہ کے لوگوں کے خیالات جاننے کا موقع ملا۔ جسٹس سوہنی نے کہا کہ اس طرح کے سمتیلن میں یہ ہونا چاہیے کہ ہر مذہب کے جو کٹر پنتھی ہیں ان کو بلایا جائے اور سنا جائے کہ ان کے وچار کیا ہیں۔ یہ دیش جو وناش کی طرف جا رہا ہے اس کو کیسے روکا جائے۔ ہونا چاہیے کہ ہر آدمی ڈھونڈے کہ میرا دھرم کیا ہونا چاہیے۔ دھرم اس کا اپنا چوائس ہے۔ مگر آج کچھ ایسا واتاورن ہو گیا ہے کہ جو میرے ماں باپ کا دھرم ہے وہی میرا دھرم۔ وبجے واڑہ سے آئے ہوئے ڈاکٹر لاڈم نے کہا کہ میں ناستک ہوں۔ سماج تک نیا ٹے تب ہو گا جب ہم مذہی جھگڑوں کو چھوڑ کر انسانیت کو اپنا دھرم بنائیں گے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ میں پہلے بھارتی ہوں۔ میں کہتا ہوں کہ میں پہلے انسان ہوں پھر میں کچھ اور ہوں۔ گاندھی گرام یونیورسٹی کے ایک استاد نے بتایا کہ کندن لال جی نے لکھا ہے کہ لالہ لاچپت رائے کے پتا اسلام کو بہت مانتے تھے۔ وہ نماز پڑھتے تھے، روزہ رکھتے تھے، قرآن پڑھتے تھے ۔ وہ مندر نہیں جاتے تھے۔ ان کے اثر سے نوجوان لاچپت رائے بھی اسلام سے پر بھاوت ہوگئے۔ انھوں نے سرسید کو لکھا کہ میں ہندو دھرم کو چھوڑ کر اسلام قبول کرنا چاہتا ہوں۔ سرسید نے نوجوان لاچپت رائے کو لکھا کہ تم کو اسلام پسند ہے تو یہ بہت اچھی بات ہے۔ مگر اس کے لئے دھرم کو بدلنے کی ضرورت نہیں۔ چنانچہ لالہ لاچپت رائے اپنے دھرم پر قائم رہے۔ انھوں نے کہا کہ مذہب بدلوانا کوئی صحیح کام نہیں۔ صبح یہ ہے کہ انٹیٹی کو بڑھانے کے بجائے کو الیٹی کو بڑھانے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page