Urdu book · اسفارِ ہند

بمبئی کا سفر

Urdu book, p. 248

By Maulana Wahiduddin Khan

پر زور دیا جائے۔ گاندھی گرام یونیورسٹی کے وائس چانسلر صاحب نے کہا کہ ہم اپنے مسائل کے لئے اکثر سرکار کی طرف دیکھتے ہیں ، مگر اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ سرکار مسئلہ کا حل نہیں ہے۔ سرکار تو خود مسئلہ کا ایک حصہ ہے : Government is not the solution to the problem, but is a part of the problem. کانفرنس ہال کے باہر نکلا تو بابا صاحب کے ایمبولنس کھڑی ہوئی تھی۔ ایک بڑی ٹاما مرسیڈیز کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس کے اندر ایک گدے دار بستر کا انتظام ہے اور اسی کے ساتھ ضروریات کی دوسری چیزیں بھی۔ ایمبولنس کے اوپر ہندی زبان میں یہ لکھا ہوا نظر آیا ، شانتی مانو کے لئے ، مانو شانتی کے لئے۔ میں اپنی قیام گاہ پر واپس آیا تو یہاں مسٹر شاہد مرزا موجود تھے۔ وہ فری لانْس انگلش جرنلسٹ ہیں۔ ۳۰ مئی کی سہ پہر کو انہوں نے تفصیلی انٹرویو لیا جس میں ہندوستانی مسلمانوں کے مختلف مسائل پر بات چیت ہوئی۔ ایک سوال یہ تھا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ آپ کا تھری پوائنٹ فارمولا یک طرفہ ہے۔ میں نے کہا کہ یہ الٹی بات ہے۔ انڈیا میں بٹوارہ کے وقت ۱۹۴۷ میں سرحدی علاقے کی ہزاروں مسجدوں کے ساتھ وہی ہوا جو اجودھیا میں بابری مسجد کے ساتھ پیش آیا۔ حتیٰ کہ خود اجودھیا میں ۶ دسمبر کو بابری مسجد کے علاوہ دو درجن مزید مسجدیں گرادی گئیں۔ مگر ان تمام مساجد پر ہمارے علما ر چپ رہے۔ میں کہتا ہوں کہ اسی طرح بابری مسجد پر بھی مسلمان چپ ہو جائیں۔ پھر اس میں نئی بات کیا ہے۔ میرا فارمولا عین وہی ہے جس پر تمام علما ر پچھلے پچاس سال سے قائم ہیں۔ ۳۰ مئی کی شام کو سمین کا آخری سیشن تھا۔ اس میں ایک ڈیکلیریشن اور ایکشن پلان پیش کیا گیا ۔ اس میں ہنسا اور الکاؤ واد کی سخت مذمت کی گئی تھی اور اپیل کی گئی تھی کہ نان اسٹور کو چھوڑ کر اسٹونر پر محنت کی جائے ۔ ایکشن پلان میں بتایا گیا تھا کہ ہر قسم کے انیائے کے خلاف سنگھرش کیا جائے گا۔ پلوواپیٹرھی کو اس مقصد کے لئے لگایا جائے گا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page