بمبئی کا سفر
Urdu book, p. 249
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک میٹنگ میں لوگوں کے درمیان ایک تجربہ گزرا۔ اس کے بعد میں نے اپنی ڈائری میں یہ الفاظ لکھے: آجکل پڑھے لکھے لوگوں کا حال یہ ہے کہ ان میں سے ہر شخص کا دماغ خیالات کا کباڑ خانہ بنا ہوا ہے۔ جس آدمی کو کوئی صلاحیت حاصل ہو جائے تو پہلا موقع ملتے ہی وہ اس کا غلط استعمال کرتا ہے۔ اس دنیا میں جو آدمی اپنی صلاحیت کا غلط استعمال نہ کرے وہی در اصل ہیرو ہے۔ مگر ایسے ہیرو تاریخ میں اتنے کم ہیں کہ وہ کسی گنتی میں نہیں آتے۔ مسٹر او زانے ایک گفتگو کے دوران کہا کہ ہم ہندوستانیوں میں یہ کمزوری ہے کہ ہم اکیلے اکیلے کام کر سکتے ہیں ، گرم سنگھٹن کے ساتھ کام نہیں کر سکتے۔ میں نے کہا کہ یہ بات بالکل درست ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سنگھٹن یا اتحاد کے ساتھ کام کرنے کے لئے اختلاف کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ مگر ہمارے یہاں یہ مزاج نہیں۔ ہندوستانی انسان اپنی رائے دینا جانتا ہے مگر وہ اپنی رائے واپس لینا نہیں جانتا۔ جب کہ اتحاد کی یہ لازمی شرط ہے۔ اتحاد کے لئے ایسے افراد درکار ہیں جو زبان رکھتے ہوئے نہ بولیں۔ جو رائے رکھتے ہوئے اس کو ظاہر نہ کریں۔ جو اختلاف رکھتے ہوئے اس کو استعمال نہ کریں۔ ایک مسلم صحافی سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ عیسائیوں نے اپنی ایک بھی یونیورسٹی ملک میں نہیں بنائی۔ مگر آج وہ سب سے زیادہ تعلیم یافتہ کمیونٹی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس کے برعکس مسلمانوں نے یہاں چار یونیورسٹی مسلم یونیورسٹی، عثمانیہ یونیورسٹی، جامعہ ملیہ، جامعہ ہمدردی بنائی۔ مگر مسلمان اس ملک میں آج تعلیمی اعتبار سے سب سے زیادہ پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ اصل یہ ہے کہ کسی کمیونٹی کو تعلیم میں آگے بڑھانے کے لئے ابتدائی تعلیم کے ادارے بنانا زیادہ ضروری ہے۔ عیسائیوں نے اس راز کو جانا۔ چنانچہ انھوں نے کثیر تعداد میں اسکول کھول کر اس ملک میں اپنا ایک ایجوکیشنل ایمپائر بنا لیا۔ اس کے برعکس مسلمانوں نے یونیورسٹیاں کھولیں اور ابتدائی ادارے نہیں کھولے جو گو یا فیڈر ادارے ہیں۔ ایسی حالت میں یونیورسٹی کھولنا بھی غیر مفید بن جاتا ہے۔ اگر آپ کی ابتدائی تعلیم اچھی ہو جائے تو اس کے بعد آپ کو تعلیم میں آگے بڑھنے سے کوئی چیز روک نہیں سکتی۔ خواہ آپ کی اپنی قوم میں یونیورسٹی موجود ہو یا نہ ہو۔ صبح کو میں اپنے کمرہ کے باہر کرسی پر بیٹھا ہوا کچھ پڑھ رہا تھا۔ اچانک محسوس ہوا کہ کوئی صاحب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader