بمبئی کا سفر
Urdu book, p. 250
By Maulana Wahiduddin Khan
اگر میرے دائیں طرف کھڑے ہو گئے ہیں۔ نظر اٹھائی تو بابا آکمٹے تھے۔ کل بھی وہ اسی طرح یہاں آئے تھے۔ انھوں نے مجھے کرسی سے اٹھنے نہیں دیا۔ انھوں نے کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ میں کرسی پر بیٹھ نہیں سکتا۔ مجھ کو تو کھڑا ہی رہنا ہے۔ اس لئے آپ بیٹھے رہیں۔ چنانچہ ان سے دیر تک اس طرح گفتگو ہوتی رہی کہ میں اپنی کرسی پر بیٹھا ہوا تھا اور وہ میرے سامنے کھڑے ہوئے تھے۔ بابا آکمٹے (۷۹ سال) عجیب و غریب شخصیت کے آدمی ہیں۔ ان کو عالمی شہرت حاصل ہے۔ ان کو بہت سے ایوارڈ ملے ہیں جن میں ٹمپلٹن ایوارڈ (۷۰ لاکھ روپیہ) بھی شامل ہے۔ ان کے جسم پر ۱۶ میجر آپریشن ہو چکے ہیں۔ ان کے سینے پر ایک ابھار تھا معلوم ہو کہ یہ پیس میکر (pacemaker) ہے جو ۵۷ ہزار روپیہ میں درآمد کر کے بذریعہ آپریشن ان کے اندر داخل کیا گیا ہے۔ ان کے ساتھ اتنے زیادہ حادثات پیش آئے ہیں کہ اب وہ بیٹھ نہیں سکتے۔ وہ یا کھڑے رہتے ہیں یا لیٹے رہتے ہیں۔ ان کی دو خاص ایمبولنس ہیں جن کے اندر بستر اور دوسری ضرورت کی چیزیں ہر وقت موجود رہتی ہیں۔ جب وہ ایک ایمبولنس میں چلتے ہیں تو ساتھ ایک خالی ایمبولنس بھی چلتی ہے تاکہ اگر ایک فیل ہو جائے تو دوسری استعمال کی جاسکے۔ وہ اپنے بارے میں کہتے ہیں کہ میں ایک خانہ بدوش سوار ہوں : I am a nomad on wheel. ایک ہندو بھائی جو زیادہ عمر کے تھے انھوں نے خصوصی ملاقات کی۔ ان کی گفت گو کا موضوع عجیب تھا۔ انھوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ الہ کا مطلب وجود ہوتا ہے۔ لا الہ الا اللہ کا مطلب یہ ہے کہ۔ نہیں ہے کوئی مگر اللہ ہے۔ یعنی وجود صرف ایک کا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ تو وحدت وجود (monism) ہے ۔ جب کہ اس کلمہ میں توحید (monotheism) کی تعلیم ہے۔ عربی کے لحاظ سے اس کا صحیح ترجمہ یہ ہوگا کہ نہیں ہے کوئی الہ سو اللہ کے۔ یعنی اللہ ہی واحد معبود ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ مگر میری تشریح ان کی سمجھ میں نہیں آئی۔ غلطی کی یہ قسم مسلمانوں میں بہت عام ہے۔ آپ کو بہت سے ایسے سلمان حتی کہ عالم اور مفکر ملیں گے جو قرآن کی ایک آیت لیں گے اور اس کا ایک خود ساختہ مطلب نکال کر اپنی اس خود ساختہ تشریح پر ایک پوری عمارت کھڑی کر دیں گے۔ اگر ان کے سامنے دلائل پیش کیجئے تو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader