Urdu book · اسفارِ ہند

بمبئی کا سفر

Urdu book, p. 251

By Maulana Wahiduddin Khan

ان کو اپنے خیال کا اتنا یقین ہوگا کہ وہ آپ کی دلیلوں پر غور بھی نہیں کریں گے۔ ایک صاحب نے گفتگو کے دوران کہا کہ میں خدا کی تلاش میں نہیں ہوں، میں انسان کی تلاش میں ہوں : I am not in search of God. I am in search of man. جو لوگ اس قسم کی بات کرتے ہیں وہ صرف اس بات کا ثبوت دیتے ہیں کہ انہیں اعلیٰ حقیقتوں کی کوئی خبر نہیں۔ وہ صرف سامنے کی چیزوں کو جانتے ہیں جو انہیں اپنی آنکھ سے دکھائی دیتی ہیں۔ اس لئے وہ انہی کی تلاش میں رہتے ہیں۔ ۳۱ مئی کو صبح سویرے کا وقت ہے۔ میری نیند کھل چکی ہے مگر ابھی میں بستر پر لیٹا ہوا ہوں (نظام الدین) میں مسجد سے آنے والی اذان کی آواز یہ بتا تی تھی کہ فجر کا وقت شروع ہو گیا ہے۔ اندر شہر میں اگر چہ ۱۳۰ مسجدیں ہیں مگر ستوربا گرام شہر سے تقریباً ۲۵ کلو میٹر دور ہے اس لئے یہاں اذان جیسی کوئی آواز سنائی نہیں دیتی لیکن گھڑی میں پانچ بجے کا وقت ہوا تو اچانک باہر کے درختوں سے کوئل کی کوک سنائی دینے لگی۔ ایسا ہی پچھلی صبح کو بھی پیش آیا تھا میں نے سوچا کہ یہ چڑیاں قدرت کی موذن ہیں۔ وہ بے خطا طور پر صبح کی آمد کو جان لیتی ہیں۔ اور اپنی سریلی آواز میں اس کی آمد کا اعلان کرنا شروع کر دیتی ہیں۔ اس احساس کے ساتھ میں اپنے بستر سے اٹھا اور وضو کر کے فجر کی نماز ادا کی۔ ایک تعلیم یافتہ ہندو نے ملک میں قرضہ دار کے دیوالیہ پن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج ہندوستان کے سدھار کے لئے گاندھی کی ضرورت ہے۔ میں نے کہا کہ یہ تو وہ میدان ہے جہاں گاندھی بھی فیسل ہو چکے ہیں۔ گاندھی تو صرف اس وقت تک گاندھی تھے جب تک وہ غیروں کے خلاف اندولن چلا رہے تھے۔ ۱۹۴۷ کے بعد جب انھوں نے خود اپنوں کے خلاف بولنا شروع کیا تو جیسا کہ آپ کو معلوم ہے، لوگوں نے ان کی بات نہیں مانی۔ یہاں تک کہ ان کو گولی مار دی۔ گاندھی اس شخص کا نام ہے جس نے احتساب غیر کے نام پر لوگوں کو متحرک (mobilise) کیا ۔ مگر آج احتساب خویش کے نام پر لوگوں کو متحرک (mobilise) کرنے کی ضرورت ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page