Urdu book · اسفارِ ہند

بمبئی کا سفر

Urdu book, p. 252

By Maulana Wahiduddin Khan

اور تاریخ بتاتی ہے کہ اس محاذ پر گاندھی بالکل غیر مؤثر ہوگئے۔ اب ہمیں گاندھی سے آگے سوچنے کی ضرورت ہے۔ آج کا مسئلہ یہ نہیں ہے کہ ہمیں ایک گاندھی چاہئے ۔ آج کا مسئلہ یہ ہے کہ ہم گاندھی کی ناکامی سے سبق لیں اور وہ سبق میرے خیال سے یہ ہے کہ ملکی تعمیر کے کام کا آغاز ذہنی سازی سے شروع ہوتا ہے نہ کہ عملی اقدام سے۔ ایک ہندو بھائی نے کہا کہ میں مسلم محلوں میں بہت جاتا ہوں۔ سینکڑوں مسلم پریواروں سے میری جان پہچان ہے۔ مجھے یہ دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی حالت بہت خراب ہے ۔ وہ آدمی داسیوں سے بھی زیادہ بری حالت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ آرائیں ایس والے کہتے ہیں کہ مسلمانوں کا تستنی کرن کانگریس نے کیا ہے۔ مگر وہ تستنی کرن کہاں ہے۔ یہ تو الٹا معاملہ ہے۔ اگر تستنی کرن کیا جاتا تو ان کی حالت اچھی ہوتی۔ ۳۱ مئی ۱۹۹۳ کو مسٹر آرن کوٹھاری اور مسٹر نور الدین قریشی صبح آٹھ بجے میری قیام گاہ پر حسب پروگرام آئے۔ ان کے ساتھ میں شہر کے لئے روانہ ہوا۔ مسٹر کوٹھاری ابھی نوجوان ہیں وہ اپنی گاڑی چلا رہے تھے۔ میں ان کے بازو میں بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آج ہندو نوجوان کی سوچ کیا ہے۔ انھوں نے فوراً کہا : آسورج ۔ انھوں نے کہا کہ آج کے ہندو نوجوان کی باغیانہ سوچ ہے۔ وہ نہ اپنے ماں باپ سے ہدایت لیتا ہے اور نہ اسکول سے۔ اس کا معلم سب سے زیادہ سینما ہے۔ ٹی وی آج کے نوجوان کا سب سے بڑا گرو ہے۔ ۷۰ فیصد تو شراب پینے لگے ہیں۔ کسی بھی تعمیری کام کی ان سے امید نہیں کی جاسکتی۔ کتور را گرام سے روانہ ہو کر سب سے پہلے ہم مسٹر پر بھاش جوشی، ایڈیٹر جن ستا کے مکان پر ٹھہرے۔ وہ اندر وہی کے رہنے والے ہیں۔ ان کے مکان پر کئی ممتاز مقامی ہندو جمع ہوگئے تھے۔ کچھ دیر ان حضرات سے ملکی حالات پر گفت گو ہوئی ۔ ایک سابق منتری بھی اس مجلس میں موجود تھے۔ ان سے میں نے پوچھا کہ دیش شاتتی کی طرف جا رہا ہے یا اشاتتی کی طرف۔ انھوں نے فوراً جواب دیا : اشاتتی کی طرف۔ یہ ۳۱ مئی صبح ساڑھے ۹ بجے کا وقت تھا۔ ہم لوگ یہاں سے روانہ ہو کر دولت گنج پہنچے۔ یہاں ایکتا پنچائت کے دفتر میں ایک اجتماع ہوا۔ جس میں ہندو اور مسلمان دونوں شریک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page