بمبئی کا سفر
Urdu book, p. 253
By Maulana Wahiduddin Khan
تھے۔ مسٹر پر بھاش جوشی اور مسٹر ہھیش سنگھ نے تقریر کی۔ اس کے بعد میں نے تقریباً آدھ گھنٹہ خطاب کیا۔ میں نے کہا کہ ایکتا پنچائیت کا تخیل بہت اچھا ہے۔ اسی انداز پر ہر جگہ کام ہونا چاہئے تاکہ ہندوؤں اور مسلمانوں میں زیادہ سے زیادہ ایکتا پیدا ہو۔ بتایا گیا کہ مقامی جھگڑے لوگ ایکتا پنچائیت میں آکر حل کر لیتے ہیں۔ چنانچہ یہاں کبھی فساد نہیں ہوا۔ میں نے کہا کہ یہ طریقہ بہت اچھا ہے اور اس کو ہر جگہ دہرایا جانا چاہئے۔ راستہ میں کچھ دیر کے لئے محمد اقبال خاں صاحب کے مکان پر ٹہرا۔ یہاں اندر کے کچھ مسلم نوجوان اکٹھا ہو گئے تھے۔ ان سے میں نے کہا کہ آپ کو میں صرف ایک مختصر نصیحت کرتا ہوں۔ اور وہ ہے میٹھا بول۔ آپ اس کو اپنی مستقل روش بنالیں۔ اس کے بعد ان شاء اللہ آپ کو زندگی میں کبھی ناکامی نہیں ہوگی۔ کیوں کہ حدیث میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نرمی پر وہ چیز دیتا ہے جو وہ سختی پر نہیں دیتا۔ یہاں کے رواج کے مطابق اقبال صاحب نے میری دستار بندی کی۔ اقبال صاحب کے یہاں سے نکل کر ہم لوگ روانہ ہوئے تو راستہ میں ایک جگہ پولیس کے ساتھ ایک جلوس چل رہا تھا۔ وہ لوگ کچھ نعرے بھی لگا رہے تھے۔ میں نے غور سے دیکھا تو جلوس میں تقریباً سب کے سب چھوٹے طبقے کے نوجوان نظر آئے۔ ان کے چہرے بتا رہے تھے کہ وہ جاہل بھی ہیں اور غیر سنجیدہ بھی ہیں۔ بظاہر سب کے سب کرایہ کے لوگ تھے۔ ایسے لوگوں کا جلوس اگر سازش کے تحت بھی نکالا جائے تب بھی یہ سازش اتنی سطحی ہوتی ہے کہ حسن تدبیر کے ذریعہ اس کو نہایت آسانی کے ساتھ ناکام بنایا جاسکتا ہے۔ ۳۱ مئی کی دو پہر کو اندور سے دہلی کے لئے واپسی تھی۔ ڈاکٹر فاروقی پرنسپل اسلامیہ کالج) اور دوسرے ساتھیوں کے ہمراہ ایئر پورٹ پہنچا۔ ہندی اخبار چوتھا سنسار کے نمائندہ مسٹر الوک باجپئی کل رات میری قیام گاہ پر انٹرویو کے لئے آئے تھے۔ مگر اس وقت میں انٹرویو نہ دے سکا۔ چنانچہ آج وہ ایئر پورٹ پر آگئے۔ وہ سوال کرتے رہے اور میں وہیل چیئر پر بیٹھا ہوا ان کا جواب دیتا رہا۔ ایک سوال یہ تھا کہ 4 دسمبر کے بعد ۱۲ مارچ کو ممبئی میں جو بامب بلاسٹ ہوا، اس کے بارے میں کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ ایک سرجیکل چیک ہے۔ اور اب اس قسم کا دنگا دیش میں نہیں ہوگا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader