بمبئی کا سفر
Urdu book, p. 254
By Maulana Wahiduddin Khan
میں نے کہا کہ مجھے اس طریقہ سے سخت اختلاف ہے۔ اگر بالفرض اس کی وجہ سے دنگا رک جائے تب بھی اس کے نتیجہ میں دونوں فرقوں کے درمیان نفرت اور زیادہ بڑھ جائے گی۔ اور میرے نزدیک نفرت کا زہر فساد کی آگ سے بھی زیادہ خطر ناک ہے۔ کیوں کہ فساد کی آگ وقتی طور پر جلاتی ہے اور نفرت کی آگ مستقل طور پر جلاتی رہتی ہے۔ ایئر پورٹ سے ہوائی جہاز تک وسیل چیر کے ذریعہ آیا۔ دھمیل چیر کو ایئر پورٹ کا ایک نوجوان پورٹر چلا رہا تھا۔ اس نے اپنا نام گوپال بتایا۔ اس نے کہا کہ وہ انٹر میڈیٹ ہے۔ گرگئی سال ہو گئے اور اب تک اس کو کوئی مستقل جاب نہیں ملا۔ ایئر پورٹ میں اس کا تقرر 90 دن کے لئے ہوا ہے۔ پہلے اس کو روزانہ ۶۲ روپیہ اجرت ملتی تھی۔ اب انڈین ایئر لائنز نے اس کو گھٹا کر ۳۱ روپیہ روز کر دیا ہے۔ جب کہ مستقل پورٹر کو تین ہزار روپیہ ماہانہ ملتا ہے۔ آج ہمارے ملک میں کروڑوں نوجوان اسی قسم کی غیر مطمئن زندگی گزار رہے ہیں۔ ان لوگوں کو بہت آسانی سے ایکسپلائٹ کیا جا سکتا ہے۔ ایسے نوجوان اپنے خاندان کے لئے بھی مسئلہ ہیں اور پورے ملک کے لئے بھی۔ اندور سے دہلی کے لئے انڈین ایئر لائنز کی فلائٹ ۴۳م کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ راستہ میں انڈین ایئر لائنز کا ان فلائٹ میگزین (مئی ۱۹۹۳) دیکھا۔ اس کا ایک مضمون فوٹو گرینی پر تھا۔ اس فن کے ایک اسپیشلٹ نے اپنا مشورہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ فوٹو گریفیر کو اپنے فن سے محبت کرنا چاہئے۔ اور اس کے لئے کسی بھی حد تک جانے کے لئے تیار رہنا چاہئے : A photographer must love his subject, and if he believes in the end result, he must be prepared to go to any lengths to capture it. (80) فوٹو گرینی کے ایک اور اسپیشلٹ نے کہا تھا کہ آخری تجزیہ میں میری نصیحت جو کسی فوٹوگریفیر کے لئے ہے وہ یہ کہ وہ ہمیشہ امتیاز تک پہنچنے کی کوشش کرتا رہے : In the ultimate analysis what my advice to any young photographer would be is to keep striving for excellence. (76) انڈین ایکسپریس (۳۱ مئی) دیکھا۔ اس کے پہلے صفحہ پر کشمیر کے سابق گورنر مسٹر جگموہن کا انٹرویو چھپا تھا۔ انھوں نے ڈاکٹر فاروق عبد اللہ اور دوسرے کئی لیڈروں کو اخباری لیٹر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader