بمبئی کا سفر
Urdu book, p. 255
By Maulana Wahiduddin Khan
(paper leaders) کہا تھا۔ اس کو پڑھ کریں نے سوچا کہ آجکل کے اکثر مسلم اور غیر مسلم لیڈروں کا یہی حال ہے۔ وہ صرف اخباری لیڈر ہیں۔ وہ میڈیا کی پیدا وار ہیں۔ ان کی عوام میں کوئی جڑ نہیں ۔ گویا وہ لیڈر دکھائی دیتے ہیں، وہ حقیقئہ لیڈر نہیں ہیں۔ مسٹر آر کے پٹنا تک ایم ایل اے (ایڈیٹر ) کا ایک مضمون اسی اخبار میں تھا۔ یہ شادیوں میں بڑھے ہوئے اخراجات کے بارے میں تھا۔ اس میں انھوں نے کہا تھا کہ اگر کوئی شخص یہ خیال کرتا ہے کہ ایک آل انڈیا قانون بنا کر شادیوں کے بڑھے ہوئے اخراجات کو روکا جا سکتا ہے تو میں اس کو خیالی کہوں گا : If anybody thinks that through an all-India law, extravagant weddings can be stopped, I would merely call it wishful thinking. مسٹر پر بہاش جوشی اس سفر میں ساتھ تھے۔ وہ مختلف دلچسپ واقعات سناتے رہے۔ انھوں نے بتایا کہ مسٹر مہا ویر تیاگی نے ایک کتاب لکھی اس کا نام ہے" اب میری کون سنے گا" آزادی کے بعد مہاتما گاندھی نے یہ جملہ کہا تھا۔ اسی کو مہا ویر تیاگی نے اپنی کتاب کا عنوان بنا دیا۔ مہا ویر تیاگی نے اس میں اپنا ایک قصد لکھا ہے۔ مولانا محمد علی نے ایک بار کہا تھا کہ ایک گنہ گار مسلمان بھی میرے نزدیک مہاتما گاندھی سے بہتر ہے۔ مہا ویر تیاگی کو محمد علی کا یہ جملہ بہت نا پسند ہوا۔ انھوں نے کانگریس کی ایک میٹنگ میں اس کے خلاف اپنا رزولیوشن رکھا۔ اس میٹنگ کے چیئر مین اتفاق سے خود محمد علی تھے۔ گاندھی جی نے کہا کہ اس رزولیوشن کو پیش ہونے سے روک دیا جائے ۔ محمد علی نے بحیثیت چیئر مین کہا کہ میں کسی کے کہنے سے اس کو روک نہیں سکتا۔ البتہ خود مہا ویر تیاگی چاہیں تو اس کو واپس لے سکتے ہیں۔ گاندھی جی نے مہا ویر تیاگی کو سمجھانے کی کوشش کی مگر وہ اپنا رزولیوشن واپس لینے پر راضی نہیں ہوئے۔ اس کے بعد گاندھی جی مہاویر تیاگی کو تھوڑی دیر کے لئے الگ لے گئے۔ انھوں نے مہا ویر تیاگی سے کہا کہ اختلافی معاملہ میں بدھیوان کی بات مانی جاتی ہے یا بیوقوف کی۔ مہا ویر تیاگی نے کہا کہ بدھیوان کی۔ گاندھی نے کہا کہ پھر یہ بتاؤ کہ تم زیادہ بدھیوان ہو یا میں ۔ مہا ویر تیاگی نے کہا کہ آپ مجھ سے زیادہ بدھیوان ہیں۔ گاندھی جی نے کہا کہ پھر میں کہتا ہوں کہ اس رزولیوشن کو واپس لے لو۔ اس لئے کہ محمد علی ہمارے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader