Urdu book · اسفارِ ہند

بمبئی کا سفر

Urdu book, p. 256

By Maulana Wahiduddin Khan

دوست ہیں۔ اور دوست کی بری بات کا بھی سہن کرنا پڑتا ہے۔ اس کے بعد مہاویر تیاگی نے اپنا رزولیوشن واپس لے لیا۔ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ، ہند و یورپ کی ایک یونیورسٹی میں استاد ہیں ان سے ملاقات ہوئی گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ اس کی کیا وجہ ہے کہ انڈیا میں لوگ تنقید پر بھڑک اٹھتے ہیں۔ وہ تنقید کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ انھوں نے جواب دیا کہ ایک ایسا ملک جس کے اندر خود اعتمادی نہ ہو وہ تنقید پر اسی طرح بھڑکتا ہے : A country which lacks self-confidence tends to overreact to criticism. یہ جواب بالکل درست ہے۔ یہی معاملہ مزید اضافے کے ساتھ مسلم دانشوروں کا ہے۔ مسلم دانشور اور علما موجودہ زمانہ میں شکست خوردگی کی نفسیات میں مبتلا ہیں اس لئے اگر ان پر تنقید کی جائے تو وہ فوراََ غصہ ہو جاتے ہیں۔ وہ تنقید کو ٹھنڈے ذہن سے سننے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ ۔ میں انڈین ایئر لائنز کے جس جہاز میں سفر کر رہا تھا وہ آدھ گھنٹہ لیٹ ہو کر اندر سے روانہ ہوا۔ دہلی سے آتے ہوئے ہمارا جہاز اس سے بھی زیادہ لیٹ تھا۔ اس جہاز میں انڈیا ٹوڈے (۳۱ مئی ۱۹۹۳) کا شمارہ برائے مطالعہ موجود تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ پرائیویٹ ہوائی کمپنیوں کے بارے میں میگزین کے پچھلے شمارہ میں ایک مضمون چھپا تھا۔ موجودہ شمارہ میں مسٹر گوتم بھروواج (نوائڈا) کا ایک خط تھا جس کو انھوں نے میگزین کی پچھلی رپورٹ کو پڑھ کر لکھا تھا۔ انھوں نے بتایا تھا کہ پرائیویٹ ہوائی کمپنیاں مسافروں کے لئے ایک کلچورشاک کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اب یہاں ایسے جہاز ہیں جو بالکل وقت پر روانہ ہوتے ہیں، زیادہ با اخلاق اسٹاف اور زیادہ بہتر کھانا : Private airlines are a culture shock to the travelling public ..... now we actually have on-time departures, courteous crew and appetising food. دہلی ایئر پورٹ پر پیشگی اطلاع بھیج دی گئی تھی، چنانچہ یہاں دوبارہ دھمیل چیئر موجود تھی۔ دھمیل چیئر کو دو آدمی اٹھا کر جہاز کے اندر لے آئے۔ میں اپنی سیٹ سے اتر کر جہاز

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page