بمبئی کا سفر
Urdu book, p. 257
By Maulana Wahiduddin Khan
ہی میں وہیل چیئر پر بیٹھ گیا۔ ایک آدمی نے اس کو چلاتے ہوئے باہر کار تک پہنچایا۔ یہ سب بلا معاوضہ ایئر پورٹ کی طرف سے تھا۔ میں نے سوچا کہ دنیا اگر کسی کے بارہ میں جان لے کہ وہ فی الواقع معذور ہے تو اس کے حق میں لوگوں کے دلوں میں نرم گوشہ پیدا ہو جاتا ہے اور اس کے لئے خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے۔ اسی طرح جو لوگ اللہ کے علم میں فی الواقع معذور قرار پائیں گے، ان کا معذور ہونا اللہ کے یہاں اس بات کی سفارش بن جائے گا کہ ان کے ساتھ خصوصی رعایت کا معاملہ کیا جائے۔ معذور نہ ہونا بظاہر ایک نقص ہے مگر خدا کی دنیا ایسی دنیا ہے جہاں نقص میں بھی خوبی کا ایک پہلو پیدا ہو جاتا ہے۔ ۳۱ مئی ۱۹۹۳ کی شام کو میں دوبارہ دہلی میں تھا۔ دہلی اب بھی مجھے ویسی ہی نظر آئی جیسی وہ اندور کی چیٹنا کانفرنس سے پہلے تھی۔ میں نے سوچا کہ لوگوں کے اندرونی چیٹنا صرف ایک کانفرنس کے ذریعہ نہیں لائی جا سکتی۔ اسی کے ساتھ انتہائی ضروری ہے کہ فرد فرد پر اصلاحی عمل جاری کرنے کے لئے ایک مستقل مہم چلائی جائے۔ کانفرنس ہمارے کام کی حد نہیں کانفرنس ہمارے کام کا آغاز ہے۔ شاید یہی وہ چیز ہے جس کو حدیث میں جہاد اصغر سے جہاد اکبر کی طرف واپسی کہا گیا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader