Urdu book · اسفارِ ہند

بمبئی کا سفر

Urdu book, p. 258

By Maulana Wahiduddin Khan

اورنگ آباد کا سفر اورنگ آباد پیس ایسوسی ایشن کی دعوت پر اورنگ آباد کا سفر ہوا۔ ۴ ستمبر ۱۹۹۳ کو دہلی سے اورنگ آباد پہنچا، اور ۹ ستمبر کی صبح کو اورنگ آباد سے دہلی کے لئے واپسی ہوئی۔ پہلی بار میں اپریل ۱۹۸۷ میں کچھ دیر کے لئے اورنگ آباد میں ٹھہرا تھا جس کا مختصر تذکرہ الرسالہ نومبر ۱۹۸۷ میں شائع ہو چکا ہے۔ دوسری بار دسمبر ۱۹۹۲ میں ایک پروگرام کے تحت اورنگ آباد کا سفر ہوا۔ یہ سفر بھی مختصر تھا۔ اس کی مختصر روداد " شانتی یا ترا" کے ذیل میں راقم الحروف کی کتاب " اسفار ہند" میں دیکھی جاسکتی ہے جناب ذوالفقار حسین صاحب اورنگ آباد پیس ایسوسی ایشن کے صدر ہیں۔ ۴ ستمبر ۱۹۹۳ کو صبح سویرے گھر سے نکل کر ایئر پورٹ کی طرف روانہ ہوا۔ اس وقت عام عادت کے مطابق، میرے اوپر دل شکستگی کی کیفیت چھائی ہوئی تھی۔ میں نے سوچا کہ مجھ کو جتنی آفتوں اور سختیوں کا سامنا کرنا پڑا، اتنا شاید ساری تاریخ میں کسی کو پیش نہیں آیا ہوگا۔ آخر میرے جیسے کمزور انسان کے ساتھ اتنے سخت تجربات کیوں پیش آئے۔ یہ سوچتے ہوئے یہ شعر یاد آگیا: دل شکستہ میں رہتا ہے بادہ عرفاں سنا ہے ہم نے کہ یہ شیشہ چور ہی اچھا شاید اللہ تعالیٰ نے دل شکستگی کا یہ تلخ تجربہ اس لئے کرایا ہو کہ مجھ کو معرفت کا کوئی حصہ دیا جائے۔ تاہم یہ بات بھی اللہ ہی کو معلوم ہے، اور اس کی حقیقت بھی آخرت سے پہلے کھلنے والی نہیں۔ جہاز فضا میں بلند ہوا تو اعلانات شروع ہوئے۔ اناؤنسر نے کہا: " سیفٹی انفارمیشن کارڈ کرسی کی جیبوں میں رکھا ہوا ہے۔ کر پیا اس کو دھیان سے پڑھ لیں "۔ میں نے دیکھا تو کرسی کی جیب خالی پڑی ہوئی تھی۔ اس میں کوئی کارڈ موجود نہ تھا۔ تلاش کے بعد معلوم ہوا کہ وہ نیچے فرش پر ردی کا غذر کی طرح پڑا ہوا ہے۔ اس چھوٹی سی مثال سے فرد اور سسٹم کے معاملے کو سمجھا جا سکتا ہے۔ سسٹم میں ہر چیز کا ایک نظام مقرر کر دیا جاتا ہے۔ دفتروں میں بیٹھے ہوئے لوگ اپنی مشینی سوچ کے تحت سمجھ لیتے ہیں کہ ہر چیز ایسے اور ایسے ہوگی۔ مگر آخر کار جو چیز معاملات کی سیٹنگ کو متعین کرتی ہے وہ فرد ہوتا ہے نہ کہ سسٹم۔ سسٹم اپنے متعین ڈھانچے کے تحت فرض کر لیتا ہے کہ کارڈ کرسی کی جیب میں ہوگا۔ جب کہ فرد اس کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page