Urdu book · اسفارِ ہند

بمبئی کا سفر

Urdu book, p. 259

By Maulana Wahiduddin Khan

جیب سے نکال کر باہر پھینک چکا ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی سماج کو بہتر سماج بنانے کے لئے جو چیز فیصلہ کن ہوتی ہے وہ ہمیشہ فرد ہوتا ہے نہ کہ سسٹم۔ وزیر اعظم نریندر مودی کل ۵ ستمبر کو چین کے دورہ پر جانے والے ہیں۔ آج کے تمام اخباروں میں یہ خبر تھی کہ چین اور ہندوستان میں گفت و شنید کے بعد اس امر پر اتفاق ہو چکا ہے کہ آسام کے علاقہ میں لائن آف ایجچول کنٹرول (LAC) کو دونوں ملکوں کے درمیان سرحد کی حیثیت دیدی جائے ۔ ہندوستان ٹائمس (۴ ستمبر) کے درمیانی صفحہ پر اس کی بابت ایک مضمون تھا۔ اس کا عنوان تھا نیا امید افزا باب۔ Hopeful new chapter. ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ حقیقت پسندی کا تقاضا یہی ہے۔ اس طرح کے نزاعی معاملات میں کبھی بھی آئیڈیولزم کی بنیاد پر سمجھوتہ نہیں ہوتا۔ ان کو ہمیشہ پرگمیٹزم کی بنیاد پر ختم کرنا پڑتا ہے۔ یہی طریقہ ہندوستان اور پاکستان کو کشمیر کے معاملہ میں اختیار کرنا چاہئے۔ پاکستان کے اخبارات مسلسل یہ تاثر دیتے ہیں کہ پاکستان کشمیر کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ اس کے بجائے انہیں یہ کہنا چاہئے کہ موجودہ حالات میں پاکستان کی زندگی کا راز یہ ہے کہ وہ کشمیر کو بھلا کر اپنی تعمیر و ترقی کے شعبوں میں مصروف ہو جائے۔ جہاز میں میرے قریب کی سیٹ پر ایک تعلیم یافتہ خاتون تھیں۔ وہ اپنے چھوٹے بچہ میں مشغول تھیں اور مسلسل انگریزی میں بول رہی تھیں، چالیکٹ لوگے، دیکھو یہ بسکٹ ہے۔ اس کو اپنی جیب میں رکھ لو، یہ لو اسے کھالو، یہ دیکھو کیسا اچھا کھلونا ہے، گھر پہنچ کر اسے پاپا کو دکھانا، وغیرہ۔ اس قسم کے جملے انگریزی میں وہ مسلسل بول رہی تھیں۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ اپنے بچہ میں اتنا زیادہ محو ہیں کہ انہیں اس کا احساس ہی نہیں کہ ان کا اس طرح بولنا دوسرے مسافروں کے لئے شور بن کر ان کی پریشانی کا باعث ہو رہا ہے۔ میں نے سوچا کہ عورت اپنے پورے وجود کے ساتھ "داخل پسند" بنائی گئی ہے۔ عورت کا ورک پلیس اس کا گھر ہے۔ جو لوگ گھر کے باہر کی دنیا کو عورت کا ورک پلیس بنانا چاہتے ہیں وہ فطرت کے نظام میں ایسی مداخلت کر رہے ہیں جو کبھی کسی مفید نتیجہ تک پہنچنے والی نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page